مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 285
منجانب اللہ ہیں۔آخر سچے مذہب کیلئے کوئی تو مابہ الامتیاز چاہئے اور صرف معقولیت کا دعویٰ کسی مذہب کے منجانب اللہ ہونے پر دلیل نہیں ہوسکتی۔کیونکہ معقول باتیں انسان بھی بیان کرسکتا ہے اورجو خدا محض انسانی دلائل سے پید اہوتا ہے۔وہ خدا نہیں ہے بلکہ خد اوہ ہے جو اپنے تیئں قوی نشانوں کے ساتھ آپ ظاہر کرتا ہے۔وہ مذہب جو محض خد اکی طرف سے ہے اس کے ثبوت کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ منجانب اللہ ہونے کے نشان اورخدائی مہر اپنے ساتھ رکھتا ہو تا معلوم ہو کہ وہ خاص خد اتعالیٰ کے ہاتھ سے ہے۔سو یہ مذہب اسلام ہے۔وہ خداجو پوشیدہ اور نہاں درنہاں ہے اسی مذہب کے ذریعہ سے اس کا پتہ لگتا ہے اور اسی مذہب کے حقیقی پیروئوں پر وہ ظاہر ہوتا ہے جو درحقیقت سچا مذہب ہے۔سچے مذہب پر خدا کا ہاتھ ہوتا ہے اور خدا اس کے ذریعہ سے ظاہر کرتا ہے کہ میں موجود ہوں۔جن مذاہب کی محض قصوں پر بنا ہے وہ بت پرستی سے کم نہیں۔ان مذاہب میںکوئی سچائی کی روح نہیں ہے اگر خد ااب بھی زندہ ہے جیسا کہ پہلے تھا اور اگر وہ اب بھی بولتا اور سنتا ہے جیسا کہ پہلے تھا تو کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ وہ اس زمانہ میںایسا چپ ہو جائے کہ گویا موجود نہیں۔اگر وہ اس زمانہ میں بولتا نہیں تو یقینا وہ اب سنتا بھی نہیں گویا اب کچھ بھی نہیں۔سو سچا وہی مذہب ہے کہ جو اس زمانہ میں بھی خدا کا سننا اور بولنا دونوں ثابت کرتا ہے۔غرض سچے مذہب میں خدا تعالیٰ اپنے مکالمہ مخاطبہ سے اپنے وجود کی آپ خبر دیتا ہے۔خدا شناسی ایک نہایت مشکل کام ہے۔دنیا کے حکیموں اور فلاسفروں کا کام نہیں ہے جو خدا کا پتہ لگا ویں۔کیونکہ زمین و آسمان کو دیکھ کر صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس ترکیب محکم اور اَبلغ کا کوئی صانع ہونا چاہئے۔مگر یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ فی الحقیقت وہ صانع موجود بھی ہے اور ہونا چاہئے اور ہے میں جوفرق ہے وہ ظاہر ہے پس اس وجود کا واقعی طور پر پتہ دینے والا صرف قرآن شریف ہے جو صرف خدا شناسی کی تاکید نہیں کرتا بلکہ آپ دکھلا دیتا ہے اور کوئی کتاب آسمان کے نیچے ایسی نہیں ہے کہ اس پوشیدہ وجود کا پتہ دے۔مذہب سے غرض کیا ہے ! بس یہی کہ خد اتعالیٰ کے وجود اور اس کی صفاتِ کاملہ پر یقینی طور پر ایمان حاصل ہو کر نفسانی جذبات سے انسان نجات پا جاوے اور خدا تعالیٰ سے ذاتی محبت پیدا ہو۔کیونکہ درحقیقت وہی بہشت ہے جو عالمِ آخرت میں طرح طرح کے پیرایوں میں ظاہر ہو گا۔اور حقیقی خد اسے بے خبر رہنا اور اس سے دور رہنا اور سچی محبت اس سے نہ رکھنا درحقیقت یہی جہنم ہے جو عالم