مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 284
جن کا کوئی ثبوت نہیں اور کوئی کتاب ا ن کی شکوک و شبہات کے گند سے خالی نہیں اورجن کتابوں کو وہ جعلی اور فرضی کہتے ہیںممکن ہے کہ وہ جعلی نہ ہوں او رجن کتابوں کو وہ صحیح مانتے ہیں ممکن ہے کہ وہ جعلی ہوں۔خدا تعالیٰ کی کتاب ان کی مطابقت یا مخالفت کی محتاج نہیں ہے۔خد اتعالیٰ کی سچی کتاب کا یہ معیارنہیں ہے کہ ایسی کتابوں کی مطابقت یا مخالفت دیکھی جائے۔عیسائیوں کا کسی کتاب کو جعلی کہنا ایسا امر نہیں ہے کہ جو جو ڈیشل تحقیقات سے ثابت ہو چکا ہے اورنہ ان کا کسی کتاب کو صحیح کہنا کسی باضابطہ ثبوت پر مبنی ہے۔نری اٹکلیں اور خیالات ہیں۔لہٰذا ان کے یہ بیہودہ خیالات خدا کی کتاب کے معیار نہیں ہو سکتے۔بلکہ معیاریہ ہے کہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کتاب خد اکے قانونِ قدرت ۱؎ اور قوی معجزات سے اپنا منجانب اللہ ہونا ثابت کرتی ہے یا نہیں؟ہمارے سیّد و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تین ہزار سے زیادہ معجزات ہوئے ہیں اور پیشگوئیوں کا تو شمار نہیں۔مگر ہمیں ضرورت نہیں کہ ان گزشتہ معجزات کو پیش کریں۔بلکہ ایک عظیم الشان معجزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ہے کہ تمام نبیوں کی وحی منقطع ہو گئی اور معجزات نابود ہو گئے اور ان کی اُمت خالی اور تہی دست ہے۔صرف قصے ان لوگوں کے ہاتھ میں رہ گئے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی منقطع نہیں ہوئی اور نہ معجزات منقطع ہوئے بلکہ ہمیشہ بذریعہ کاملینِ اُمت، جو شرف اتباع سے مشرف ہیں، ظہور میں آتے ہیں۔اسی وجہ سے مذہب اسلام ایک زندہ مذہب ہے اور اس کا خدا زندہ خدا ہے چنانچہ اس زمانہ میں بھی اس شہادت کے پیش کرنے کے لئے یہی بندہ حضرت عزت موجود ہے اوراب تک میرے ہاتھ پر ہزار ہا نشان تصدیق رسول اللہ اور کتاب اللہ کے بارہ میں ظاہر ہو چکے ہیں اورخد اتعالیٰ کے پاک مکالمہ سے قریباً ہر روز میں مشرف ہوتا ہوں۔اب ہوشیار ہوجائو اور سوچ کر دیکھ لو کہ جس حالت میں دنیا میں ہزار ہا مذہب خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں تو کیونکر ثابت ہو کہ وہ درحقیقت ۱؎ دنیا میں ایک قرآن ہی ہے جس نے خدا کی ذات اور صفات کو خد اکے اس قانونِ قدرت کے مطابق ظاہر فرمایا ہے۔جو خد ا کے فعل سے دنیا میں پایا جاتا ہے اور جو انسانی فطرت اور انسانی ضمیرمیں منقوش ہے عیسائی صاحبوں کا خدا صرف انجیل کے ورقوں میں محبوس ہے اور جس تک انجیل نہیں پہنچی وہ اس خدا سے بے خبر ہے لیکن جس خد اکو قرآن پیش کرتا ہے اس سے کوئی شخص ذوالعقول سے بے خبر نہیں اس لئے سچا خد اوہی خدا ہے جس خد اکو قرآن نے پیش کیا ہے۔جس کی شہادت انسانی فطرت اور قانونِ قدرت دے رہا ہے۔