مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 262 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 262

کیلئے حق کی شناخت کیلئے ایک راہ نکل آئے گی۔میں نے ایسی دعا کے لئے سبقت نہیں کی بلکہ ڈوئی نے کی۔اس سبقت کو دیکھ کر غیور خدا نے میرے اندر یہ جوش پیدا کیا۔اور یاد رہے کہ میں اس مُلک میں معمولی انسان نہیں ہوں۔میں وہی مسیح موعود ہوں جس کا ڈوئی انتظار کر رہا ہے۔صرف یہ فرق ہے کہ ڈوئی کہتا ہے کہ مسیح موعود پچیس برس کے اندر اندر پیدا ہو جائے گا اور میں بشارت دیتا ہوں کہ وہ مسیح پیداہو گیا اور وہ میں ہی ہوں۔صدہا نشان زمین سے اور آسمان سے میرے لئے ظاہر ہوچکے۔ایک لاکھ کے قریب میرے ساتھ جماعت ہے جو زور سے ترقی کر رہی ہے۔ڈوئی بیہودہ باتیں اپنے ثبوت میں لکھتا ہے کہ میں نے ہزار ہا بیمار توجہ سے اچھے کئے ہیں۔ہم اس کا جواب دیتے ہیں کہ کیوں پھر اپنی لڑکی کو اچھا نہ کر سکا اور وہ مر گئی اور اب تک اس کے فراق میں روتا ہے اور کیونکر اپنے اس مرید کی عورت کو اچھا نہ کر سکاجو بچہ جَن کر مر گئی اور اس کی بیماری پر بلایا گیا مگر وہ گزر گئی۔یاد رہے کہ اس مُلک کے صدہا عام لوگ اس قسم کے عمل کرتے ہیں۔اور سلب امراض میں بہتوں کو مشق ہو جاتی ہے اور کوئی ان کی بزرگی کا قائل نہیں ہوتا۔پھر امریکہ کے سادہ لوحوں پر نہایت تعجب ہے کہ وہ کس خیال میں پھنس گئے۔کیا ان کے لئے مسیح کو ناحق خدا بنانے کا بوجھ کافی نہ تھا کہ یہ دوسرا بوجھ بھی انہوں نے اپنے گلے ڈال لیا۔اگر ڈوئی اپنے دعویٰ میں سچا ہے اور درحقیقت یسوع مسیح خدا ہے تو یہ فیصلہ ایک ہی آدمی کے مرنے سے ہو جائے گا۔کیا حاجت ہے کہ تمام مُلکوں کے مسلمانوں کو ہلاک کیا جائے؟ لیکن اگر اس نے اس نوٹس کا جواب نہ دیا اور یا اپنے لاف و گزاف کے مطابق دعا کر دی اور پھر دنیا سے قبل میری وفات کے اُٹھایا گیا تو یہ تمام امریکہ کے لئے ایک نشان ہوگا۔مگر یہ شرط ہے کہ کسی کی موت انسانی ہاتھوں سے نہ ہو بلکہ کسی بیماری سے یا بجلی سے یا سانپ کے کاٹنے سے یا کسی درندہ کے پھاڑنے سے ہو۔اور ہم اس جواب کیلئے ڈوئی کو تین ماہ تک مہلت دیتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ خدا سچوں کے ساتھ ہو۔آمین یاد رہے کہ صادق اور کاذب میں فیصلہ کرنے کیلئے ایسے امور ہرگز معیار نہیں ٹھہر سکتے جو دنیا کی قوموں میں مشترک ہیں۔کیونکہ کم و بیش ہر ایک قوم میں وہ پائے جاتے ہیں۔انہیںامور میں سے طریق سلبِ امراض بھی ہے۔یہ طریق نامعلوم وقت سے ہر ایک قوم میں رائج ہے۔ہندو بھی ایسے کرتب کیا کرتے ہیں اور یہودیوں میں بھی یہ طریق چلے آتے ہیں اور مسلمانوں میں بھی بہت سے