مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 261
وہ غریب مریم کے عاجز بیٹے کو خدا کیونکر مان لیں بالخصوص اس زمانہ میں جب کہ ڈوئی کے خدا کی قبر بھی اس مُلک میں موجود ہے اور ان میں وہ مسیح موعود بھی موجود ہے جو چھٹے ہزار کے اخیر اور ساتویں ہزار کے سر پر ظاہر ہوا جس کے ساتھ بہت سے نشان ظہور میں آئے اور ڈوئی کا یہ الہام کہ تمام مسلمان ہلاک ہو جائیں گے اور وہی لوگ باقی رہیں گے جو یسوع مسیح کو خدا مانیںگے اور ساتھ ہی ڈوئی کو بھی اس خدا کا رسول مان لیں گے۔اس الہام کی رو سے تو باقی عیسائیوں کی بھی خیر نہیں کیونکہ گو وہ مریم کے صاحبزادہ کو خدا مانتے ہیں مگر یہ جھوٹا رسول جو ڈوئی ہے اب تک انہوں نے تسلیم نہیں کیا۔اور ڈوئی نے صاف طور پر یہ الہام شائع کر دیا ہے کہ صرف یسوع مسیح کو خدا ماننا کافی نہیں جب تک ڈوئی کو بھی ساتھ ہی نہ مان لیں اور چاہئے کہ صاف اقرار کرے کہ ڈوئی ایلیا اور ڈوئی عہد کارسول اور ڈوئی کے حق میں ہی وہ پیشگوئی ہے جو توریت استثنا باب ۱۸ آیت ۱۵ میں ہے، تب بچیں گے ورنہ ہلاک ہو جائیں گے۔غرض ڈوئی بار بار لکھتا ہے کہ عنقریب یہ سب لوگ ہلاک ہو جائیں گے بجز اس گروہ کے جو یسوع کی خدائی مانتا ہے اور ڈوئی کی رسالت۔اس صورت میں یورپ اور امریکہ کے تمام عیسائیوں کو چاہئے کہ بہت جلد ڈوئی کو مان لیں تاہلاک نہ ہو جائیں اور جب کہ انہوں نے ایک نامعقول امر کو مان لیا ہے یعنی یسوع مسیح کی خدائی کو، تو چلو یہ دوسرا نامعقول امر بھی مان لو کہ اس خدا کا ڈوئی رسول ہے۔رہے مسلمان۔سو ہم ڈوئی صاحب کی خدمت میں باَدب عرض کرتے ہیں کہ اس مقدمہ میں کروڑوں مسلمانوں کے مارنے کی کیا حاجت ہے؟ ایک سہل طریق ہے جس سے اس بات کا فیصلہ ہو جائے گا کہ آیا ڈوئی کا خدا سچا خدا ہے یا ہمارا خدا۔وہ بات یہ ہے کہ وہ ڈوئی صاحب تمام مسلمانوں کو بار بار موت کی پیشگوئی نہ سناویں بلکہ ان میں سے صرف مجھے اپنے ذہن کے آگے رکھ کر یہ دعا کر دیں کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مر جائے کیونکہ ڈوئی یسوع مسیح کو خدا جانتا ہے مگر میں اس کو ایک بندۂ عاجز مگر نبی جانتا ہوں۔اب فیصلہ طلب یہ امر ہے کہ دونوں میں سے سچا کون ہے؟ چاہئے کہ اس دعا کو چھاپ دے اور کم سے کم ہزار آدمی کی اس پر گواہی لکھے اور جب وہ اخبار شائع ہو کر میرے پاس پہنچے گی تب میں بھی بجواب اس کے یہی دعا کروں گا اور انشاء اللہ ہزار آدمی کی گواہی لکھ دوں گا۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ڈوئی کے اس مقابلہ سے اور تمام عیسائیوں