مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 207
کے ساتھ اپنی جان میں جگہ دے گا تو بالضرورت مفہوم مخالف اس کے دل سے نکل جائے گا۔کیونکہ ضدین ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتیں۔پس جب نفسانی جذبات نکل گئے تو یہی وہ حالت ہے۔جس کو سچی پاکیزگی اور حقیقی راست بازی کہتے ہیں اور خدا کے بھیجے ہوئے پر ایمان لانا جو دوسرے جز کلمہ کا مفہوم ہے۔اس کی ضرورت یہ ہے کہ تا خدا کے کلام پر بھی ایمان حاصل ہو جائے۔کیونکہ جو شخص یہ اقرار کرتا ہے میں خدا کا فرمانبردار بننا چاہتا ہوں۔اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کے فرمانوں پر ایمان بھی لاوے۔اور فرمان پر ایمان لانا بجز اُس کے ممکن نہیں کہ اس پر ایمان لاوے جس کے ذریعہ سے دنیا میں فرمان آیا۔پس یہ حقیقت کلمہ کی ہے۔اور آپ کے یسوع صاحب نے بھی اسی کی طرف اشارہ کیا ہے اور یہی مدار نجات ٹھیرایا ہے۔کہ خدا پر اور اس کے بھیجے ہوئے یسوع پر ایمان لایا جائے۔مگر چونکہ آپ لوگ اندھے ہیں۔اس لئے جوشِ تعصّب سے انجیل کی باتیں بھی آپ کو نظر نہیں آتیں۔اور آپ کا یہ کہنا کہ وضو کرنے سے گناہ کیونکر دور ہوسکتے ہیں۔اے نادان! الٰہی نوشتوں پر کیوں غور نہیں کرتا۔کیا انسان ہونے کے بعد پھر حیوان بن گیا۔وضو کرنا تو صرف ہاتھ پیر اور منہ دھونا ہے۔اگر شریعت کا یہی مطلب ہوتا کہ ہاتھ پیر دھونے سے گناہ دور ہوجاتے ہیں۔تو یہ پاک شریعت ان تمام پلید قوموں کو جو اسلام سے سرکش ہیں۔ہاتھ منہ دھونے کے وقت گناہ سے پاک جانتی کیونکہ وضو سے گناہ دور ہو جاتے ہیں۔مگر شارع علیہ السلام کا یہ مطلب نہیں بلکہ یہ مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ کے چھوٹے چھوٹے حکم بھی ضائع نہیں جاتے۔اور ان کے بجا لانے سے بھی گناہ دور ہوتے ہیں۔اگر میں اس وقت الزامی جواب دوں تو کئی جز لکھ کر منکر کا منہ کالا کروں۔مگر وقت تنگ ہے۔اور ابھی چند سوال باقی ہیں۔ذرا میری اس تحریر پر کچھ لکھو۔پھر تمہاری ہی کتابوں سے تمہیں عمدہ انعام دیا جائے گا۔تسلّی رکھو۔آپ جھوٹ سے کیونکر متنفر ہوگئے۔کیا انجیل کا جھوٹ یاد نہ رہا۔کیا یہ سچ ہے کہ یسوع صاحب کو سر دھرنے کے لئے جگہ نہیں ملتی تھی۔کیا یہ واقعی امر ہے کہ اگر یسوع کے تمام کام لکھے جاتے تو وہ کتابیں دنیا میں سما نہ سکتیں۔اب کہو کہ دروغ گوئی میں انجیل کو کمال ہے یا کچھ کسر رہ گئی۔یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں گناہ کو ہلکا نہیں سمجھا گیا۔بلکہ بار بار بتلایا گیا ہے کہ کسی کو بجز اس کے نجات نہیں کہ گناہ سے سچی نفرت پیدا کرے مگر انجیل نے سچی نفرت کی تعلیم نہیں