مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 206
کیا ہیں۔بے چارہ بچوں کی طرح باتیں کرتا ہے۔افسوس کہ اس وقت ہمیں فرصت نہیں کہ ان تمام یسوع کی باتوں کی قلعی کھولیں۔انشاء اللہ تعالیٰ دوسرے وقت میں دکھائیں گے اور ثابت کریں گے کہ یہ شخص بالکل تقویٰ کے طریق سے ناواقف ہے۔اور اس کی تعلیم انسانی درخت کے کسی شعبہ کی بھی آب پاشی نہیں کرسکتی۔جانتا ہی نہیں کہ انسان کن کن قوتوں کے ساتھ اس مسافر خانہ میں بھیجا گیا ہے۔اور اسے خبر ہی نہیں کہ خدا تعالیٰ کا یہ مقصود نہیں کہ ان تمام قوتوں کو زائل کر دیوے۔بلکہ یہ مطلب ہے کہ ان کو خط اعتدال پر چلاوے۔پس ایسی ناقص تعلیم کو قرآن شریف کے سامنے پیش کرنا سخت ہٹ دھرمی اور نابینائی اور بے شرمی ہے۔اور آپ کا یہ کہنا کہ حضرت مقدس نبوی کی تعلیم یہ ہے کہ لَااِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کہنے سے گناہ دور ہو جاتے ہیں۔یہ بالکل سچ ہے اور یہی واقعی حقیقت ہے کہ جو محض خدا کو واحد لاشریک جانتا ہے اور ایمان لاتا ہے کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی قادر یکتا نے بھیجا ہے تو بے شک اگر اس کلمہ پر اس کا خاتمہ ہو تو نجات پا جائے گا۔آسمانوں کے نیچے کسی کی خودکشی سے نجات نہیں۔ہرگز نہیں۔اور اس سے زیادہ کون پاگل ہوگا کہ ایسا خیال بھی کرے۔مگر خدا کو واحد لا شریک سمجھنا اور ایسا مہربان خیال کرنا کہ اس نے نہایت رحم کرکے دنیا کو ضلالت سے چھڑانے کے لئے اپنا رسول بھیجا جس کا نام محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔یہ ایک ایسا اعتقاد ہے کہ اس پر یقین کرنے سے روح کی تاریکی دور ہوتی ہے اور نفسانیت دور ہوکر اس کی جگہ توحید لے لیتی ہے۔آخر توحید کا زبردست جوش تمام دل پر محیط ہوکر اسی جہان میں بہشتی زندگی شروع ہوجاتی ہے۔جیسا تم دیکھتے ہوکہ نور کے آنے سے ظلمت قائم نہیں رہ سکتی۔ایسا ہی جب لَااِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ کا نورانی پَر تَو دل پر پڑتا ہے تو نفسانی ظلمت کے جذبات کا لمعدوم ہو جاتے ہیں۔گناہ کی حقیقت بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ سرکشی کی ملونی سے نفسانی جذبات کا شور و غوغا ہو۔جس کی متابعت کی حالت میں ایک شخص کا نام گناہ گار رکھا جاتا ہے اور لَااِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ کے معنی جو لغت عرب کے مواردِ استعمال سے معلوم ہوتے ہیں، وہ یہ ہیں کہ لَامَطْلُوْبَ لِیْ وَلَا مَحْبُوْبَ لِیْ وَلَا مَعْبُوْدَ لِیْ وَلَا مُطَاعَ لِیْ اِلاَّ اللّٰہُ یعنی بجز اللہ کے اور کوئی میرا مطلوب نہیں۔اور محبوب نہیں اور معبود نہیں اور مطاع نہیں۔اب ظاہر ہے کہ یہ معنی گناہ کی حقیقت اور گناہ کے اصل منبع سے بالکل مخالف پڑے ہیں۔پس جو شخص ان معنی کو خلوصِ دل