مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 127 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 127

دے گا اور وہی خیر الفاصلین ہے جو ایک دن میرا اور تمہارا فیصلہ کر دے گا۔خدا نے میری رسالت پر روشن نشان تمہیں دیئے ہیں۔سو جو ان کو شناخت کرے اُس نے اپنے ہی نفس کو فائدہ پہنچایا اور جو اندھا ہو جائے اس کا وبال بھی اسی پر ہے۔میں تو تم پر نگہبان نہیں۔اور تجھ سے عذاب کیلئے جلدی کرتے ہیں۔کہہ وہی پروردگار اس بات پر قادر ہے کہ اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے کوئی عذاب تم پر بھیجے اور چاہے تو تمہیں دو فریق بنا کرایک فریق کی لڑائی کا دوسرے کو مزا چکھا دے اور یہ کہ سب خوبیاں اللہ کے لئے ہیں۔وہ تمہیں ایسے نشان دکھائے گا جنہیں تم شناخت کر لو گے اور کہہ تمہارے لئے ٹھیک ٹھیک ایک برس کی میعاد ہے٭ نہ اس سے تم تاخیر کر سکو گے نہ تقدیم۔اور تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ سچ بات ہے۔کہہ ہاں مجھے قسم ہے اپنے ربّ کی کہ یہ سچ ہے اور تم خدا تعالیٰ کو اس کے وعدوں سے روک نہیں سکتے۔ہم عنقریب ان کواپنے نشان دکھلائیں گے۔ان کے ملک کے اردگرد میں اور خود اُن میں بھی یہاں تک کہ اُن پر کھل جائے گا کہ یہ نبی سچا ہے۔انسان کی فطرت میں جلدی ہے۔میں عنقریب تمہیں اپنے نشان دکھلاؤں گا۔سو تم مجھ سے تو جلدی مت کرو۔اب دیکھو کہ ان آیات میں نشان مطلوبہ کے دکھلانے کے بارے میں کیسے صاف اور پختہ وعدے دیئے گئے ہیں۔یہاں تک کہ یہ بھی کہا گیا کہ ایسے کھلے کھلے نشانات دکھلائے جائیں گے کہ تم ان کو شناخت کر لو گے اور اگر کوئی کہے کہ یہ تو ہم نے مانا کہ عذاب کے نشانوں کے بارے میں جابجا قرآن شریف میں وعدے دیئے گئے ہیں کہ وہ ضرور کسی دن دکھلائے جائیں گے اور یہ بھی ہم نے تسلیم کیا کہ وہ سب وعدے اس زمانہ میںپورے بھی ہوگئے کہ جب کہ خدا تعالیٰ نے اپنی خداوندی قدرت دکھلا کر مسلمانوں کی کمزوری اور ناتوانی کو دور کر دیا اور معدودے چند سے ہزار ہا تک ان کی نوبت پہنچا دی اور ان کے ذریعہ سے ان تمام کفّار کو تہ تیغ کیا جو مکہ میں اپنی سرکشی اور جو رو جفا کے زمانہ میں نہایت تکبر سے عذاب کا نشان مانگا کرتے تھے۔لیکن اس بات کا ثبوت قرآن شریف سے کہاں ملتا ہے کہ بجز اُن نشانوں کے اور بھی نشان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھلائے تھے۔سو واضح ہو کہ نشانوں کے دکھلانے کا ذکر قرآن شریف میں جا بجا آیا ہے۔بعض جگہ اپنے پہلے نشانوں کا ٭ یوم سے مراد اس جگہ برس ہے۔چنانچہ بائیبل میں بھی یہ محاورہ پایا جاتا ہے سو پورے برس کے بعد بدر کی لڑائی کا عذاب مکہ والوں پر نازل ہوا۔جو پہلی لڑائی تھی۔