مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 126 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 126

بتلا رہا ہے کہ اس وقت تخویفی نشان جن کی یہ لوگ درخواست کرتے ہیں صرف اس وجہ سے نہیں بھیجے گئے کہ پہلی آیتیں ان کی تکذیب کر چکی ہیں۔سو جونشان پہلے ردّ کئے گئے اب بار بار انہیں کو نازل کرنا کمزوری کی نشانی ہے اور غیر محدود قدرتوں والے کی شان سے بعید۔پس ان آیات میں یہ صاف اشارہ ہے کہ عذاب کے نشان ضرورنازل ہوں گے مگر اور رنگوں میں۔یہ کیا ضرورت ہے کہ وہی نشان حضرت موسیٰ ؑ کے یا وہی نشان حضرت نوحؑ اور قوم لوط ؑ اور عاد ؑ اور ثمود کے ظاہر کئے جائیں۔چنانچہ ان آیات کی تفصیل دوسری آیات میں زیادہ تر کی گئی ہے جیسا کہ اللہ جلّشانہٗ فرماتا ہے۔۱؎ ۔۲؎ ۳؎ ۴؎ ۵؎ ۶؎ ۷؎ َ۸؎  ۹؎ ۔۱۰؎ ۱۱؎ یعنی یہ لوگ تمام نشانوں کو دیکھ کر ایمان نہیں لاتے۔پھر جب تیرے پاس آتے ہیں تو تجھ سے لڑتے ہیں اور جب کوئی نشان پاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم کبھی نہیں مانیں گے جب تک ہمیں خود ہی وہ باتیں حاصل نہ ہوں جو رسولوںکو ملتی ہیں۔کہہ میں کامل ثبوت لے کر اپنے ربّ کی طرف سے آیا ہوں اور تم اس ثبوت کو دیکھتے ہو اور پھر تکذیب کر رہے ہو۔جس چیز کو تم جلدی سے مانگتے ہو (یعنی عذاب) وہ تو میرے اختیار میں نہیں۔حکم اخیر صادر کرنا تو خدا ہی کا منصب ہے، وہی حق کو کھول ۱؎ الانعام:۲۶ ۲؎ الانعام: ۱۲۵ ۳؎ الانعام: ۵۸ ۴؎ الانعام: ۱۰۵ ۵؎ العنکبوت: ۵۴ ۶؎ الانعام: ۶۶ ۷؎ النّمل:۹۴ ۸؎ سبا: ۳۱ ۹؎ یونس: ۵۴ ۱۰؎ حٰمٓ السجدۃ: ۵۴ ۱۱؎ الانبیآء: ۳۸