مکتوب آسٹریلیا — Page vi
ii اسی طرح یہ بھی سچ ہے کہ لکھنے کے لئے کوئی وجہ اور محرک الفضل انٹر نیشنل لنڈن ہوا ہے جس کے مدیر مولانا نصیر احمد قمر صاحب نے میری حوصلہ افزائی فرمائی اور اپنے مؤقر اخبار میں جگہ دے کر انہیں عزت بخشی اور مقبول عام بنا دیا۔انہوں نے ہی مجھے ایک بار فرمایا تھا کہ اپنے مضامین کو جمع کر کے کتاب کی شکل میں شائع کرا دیں لیکن تساہل آڑے آتا رہا۔اب یہی بات جب انہوں نے میرے چھوٹے بھائی ڈاکٹر محمد زبیر خان را نا (سابق صد ر احمد یہ ڈاکٹر ایسوسی ایشن برطانیہ ) سے کہی تو انہوں نے خاکسار کے تعاون سے اس کا بیٹرہ اٹھا لیا۔اللہ تعالیٰ ان دونوں بھائیوں کو اس کی جزا دے۔آمین تحدیث نعمت کے طور پر خاکسار عرض کرتا ہے کہ اللہ نے فضل فرمایا کہ بچپن ہی سے میرے دل میں قرآن کریم سیکھنے کی خواہش ڈال دی اور اس کے سیکھنے کے لئے اسباب بھی میسر فرما دیے۔خاکسار کا بچپن قادیان میں گذرا اور تقسیم ملک تک وہیں دسویں جماعت تک تعلیم الاسلام ہائی سکول کا طالب علم رہا۔اس زمانہ میں ہمارے سکول میں دینیات کا مضمون لازمی ہوتا تھا اور جو کوئی اس میں فیل ہوتا اسے سارے امتحان میں فیل کر دیا جاتا تھا۔سکول سے فارغ ہونے تک دینیات اور عربی کے طالب علموں کو سارے قرآن کریم کا ترجمہ۔کچھ احادیث و کتب مسیح موعود علیہ السلام۔عربی ادب کی چند کتابیں مع صرف ونحو وغیرہ پڑھا دیا کرتے تھے جس سے بعد میں دینی علوم کے حصول کے لئے ایک بنیاد فراہم ہو جاتی تھی۔مجھے قرآن کریم ناظرہ میری والدہ مرحومہ محترمہ آمنہ بیگم صاحبہ نے پڑھایا اور دینی علوم کے حصول کے لئے قادیان میں میرے والد صاحب مرحوم چوہدری محمد یعقوب خان صاحب ( نمبر دار موضع گل منبج نزد قادیان وسب انسپکٹر محکمہ امداد باہمی ) نے ہم کو رکھا اور خود بسلسلہ ملا زمت قادیان سے باہرا کیلے رہنے کی تکلیف اٹھائی۔وہ خود بھی اسی سکول کے طالب علم رہ چکے تھے۔اللہ تعالیٰ دونوں سے اپنی مغفرت اور رحمت کا سلوک فرمائے۔آمین پاکستان آکر 1954ء میں خاکسار نے انجیز نگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجیز نگ (الیکٹریکل ) کیا اور واپڈا میں بطور ایس ڈی او ملازمت کا آغاز کیا۔ملازمت کے دوران ایک سال بغرض ٹریننگ کوپن ہیگن (ڈنمارک) رہا اور ساڑھے چار سال تک حکومت کی طرف سے بنغازی لیبیا