مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 44 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 44

44 سے گاڑی مع آلات کے برآمد ہوئی۔خود انسان کے لئے مریخ کا سفر اس کے صبر واستقلال اور ہمت حوصلہ کا سخت کڑا امتحان ہوگا۔زمین سے مریخ تک پہنچنے میں کوئی چھ ماہ لگیں گے۔واپسی پر پھر چھ ماہ لگیں گے اور ۶۰۰ دن مریخ پر ٹھہر کر تجربات کرنے ہوں گے۔اس طرح خلا بازوں کو کوئی اڑھائی تین سال اس سفر میں لگیں گے۔مریخ کا موسم شدید سرد ہے۔دن کو درجہ حرارت منفی ۲ ۱ در جے سنٹی گریڈ اور رات کو منفی ۷۲ درجے ہو جاتا ہے۔ہوا کا دباؤ زمین کے مقابلہ میں ۱۵۰ گنا کم ہے یعنی صرف ۶۶۷۵ ملی بار ، جبکہ زمین پر اوسط دباؤ ۲۵ ۰۱۳ املی بار ہوتا ہے۔اندازہ ہے کہ کوئی چار ارب ( بلین ) سال پہلے مریخ پر پانی بافراط موجود تھا۔پھر کوئی ایک تا تین بلین سال پہلے ایک تباہ کن سیلاب آیا جس نے پتھروں کو خوب دھو ڈالا اور کہیں کہیں انہیں جمع بھی کر دیا البتہ بعد میں کچھ ایسے حالات پیدا ہوئے کہ پانی مریخ سے ختم ہو گیا۔اب وہاں کوئی پانی نہیں ہے۔اور جہاں پانی نہ ہو وہاں زندگی کیسے ہوسکتی ہے۔اب تو وہاں کے موسمی حالات اتنے سخت ہیں کہ جراثیم تک کا بھی زندہ رہنا مشکل ہے سوائے اس کے کہ کسی پناہ گاہ میں چھپ کر بیٹھے ہوں۔مریخ پر اس کی زندگی کے ابتدائی ایام میں پتھروں کی شدید بارش ہوتی رہی ہے۔اب بھی اس پر شہاب ثاقب گرتے رہتے ہیں۔چٹانیں اس قسم کی ہیں جو آتش فشاں پہاڑوں میں سے لاوا اگلنے پر پیدا ہوتی ہیں(lgneous)۔زمین پر اب تک بارہ عدد شہاب ثاقب گرے ہوئے دریافت ہوئے ہیں جو مریخ سے آئے تھے۔چونکہ مریخ پر پتھر اسی ساخت کے ہیں لہذا یہ بات تقریباً طے شدہ ہے کہ وہ مریخ سے ہی آئے تھے۔مریخ کی سطح پر ۲۹ تا ۴۰ کلومیٹر تک گرد چھائی رہتی ہے۔ناسا کے مشن کے دو مقاصد تھے ایک تو اپنی ٹیکنالوجی کو ٹیسٹ کرنا اور دوسرے مریخ اور زمین وغیرہ کی تخلیق کے ابتدائی حالات کے بارہ میں معلومات حاصل کرنا۔پہلا مقصد تو پورا ہو گیا ہے اور دوسرے کے بارہ میں صحیح فیصلہ کچھ عرصہ بعد ہوگا کیونکہ ابھی معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں۔جہاں تک آسٹریلیا کے سائنس دانوں کا تعلق ہے وہ حسرت اور شک سے ناسا والوں کو دیکھ رہے ہیں اور کہتے ہیں کاش ہمارے پاس بھی اتنے ذرائع ہوتے تو پھر دیکھتے کہ ہم کیا کرتے ہیں۔چنانچہ پروفیسر پال ڈیویز نے کہا ہے کہ آسٹریلیا کے پاس زمین کی ابتدائی حالت کے متعلق تحقیق کے