مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 42 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 42

42 کی سمت کر دیتا۔اونٹنی بھی سمجھ دار تھی جب وہ دیکھتی کہ مجنوں کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی ہے اور وہ غافل ہو گیا ہے تو پھر وہ اپنا رخ گھر کی طرف کر لیتی۔جب کئی بار ایسے ہوا تو مجنوں کو یاد آیا کہ اونٹنی کا چھوٹا بچہ گھر میں ہے اس کو اس کی کشش ہے اور جب بھی میں حالت غفلت میں ہوتا ہوں تو اونٹنی طبعا گھر کا رخ کر لیتی ہے۔کہتے ہیں حکایت میں مجنوں سے مراد سالک، لیلیٰ سے مراد محبوب حقیقی ( اللہ تعالیٰ ) اور اونٹنی سے مراد انسان کا اپنا نفس ہے۔انسان اپنے نفس کو قابوکر کے خدا کی طرف جاتا ہے اور جونہی ذرا غافل ہوتا ہے نفس اپنی محبوب اشیاء کی طرف پلٹ جاتا ہے۔جب تک انسان کے اندر اور باہر الا رم نہ بجتے رہیں اور ہوشیار کرنے والی چیزیں چہرے پر نہ پڑتی رہیں کسی وقت بھی غفلت میں گرنے اور حادثہ سے دوچار ہونے کا خطرہ ساتھ لگارہتا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا تھا: نفس امارہ کی باگیں تھام کر رکھیو گرادے گا یہ سرکش ورنہ تم کو سیخ پا ہو کر اللہ تعالیٰ نے اونگھنے والوں کو ہوشیار رکھنے کا بھی انتظام کیا ہوا ہے۔ہمارے لئے قرآن وحدیث ، سلسلہ کے کتب و رسائل، خلیفہ وقت کے ارشادات ، ایم ٹی اے کا سماوی مائدہ اور قضا و قدر کا سلسلہ ایسے ہی ٹھنڈے پانی کے چھینٹے ہیں جو ہمیں ہوشیار کرنے کے لئے ہم پر پڑتے ہیں جب زندگی کی گاڑی چلاتے ہوئے ہم غافل ہو جاتے ہیں۔(الفضل انٹرنیشنل 4۔10۔96)