مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 431 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 431

431 لہذا ان سب کولمبو میں داخل کرنا اور اس طرح ان کی ناراضگی مول لینا دن بدن مشکل ہوتا جارہا تھا۔لہذا اس کا آسان حل یہ تجویز کیا گیا کہ چپکے سے یہ عقیدہ عقائد کی فہرست ہی سے خارج کر دیا گیا۔ی اس طرح کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔CHLIBACY چرچ کا بنایا ہوالغوقانون " برطانیہ میں حال ہی میں ایک فلم ”پریسٹ (Priest) بنائی گئی ہے جس میں ایک ہم جنس پسند پادری کی زندگی اور اس کے زوال کی کہانی پیش کی گئی ہے۔اس فلم کے بارہ میں نیویارک کے آرچ بشپ جان اوکانر (Cardinal john O'Connor) نے کہا ہے کہ یہ نفرت آمیز کیتھولک مخالف (Viciously Anti-Catholic) ہے۔آسٹریلیا کے پادری فادر رچرڈ لیفن (Fr۔Richard Lennan) نے فلم دیکھ کر کہا کہ ایک کیتھولک پادری کی مشکلات جو اس میں بیان کی گئی ہیں وہ محض سطحی ہیں۔اور ایک پادری کو عام زندگی کی رو سے غیر متعلق ظاہر کیا گیا ہے۔تجرد کی بحث بھی محض چرب زبانی ہے۔تجر دیا تو چرچ کا اپنا بنایا ہوا بے مقصد قانون تھا یا پھر خدا نے یہ نا قابل یقین و عمل توقع ایک پادری سے باندھی تھی لیکن وہ خود اس سے الگ رہا۔پادری صاحب کے الفاظ ہیں: The discussion of celibacy was glib۔It was either a useless rule of the church, or it was some incredible ideal that God asked of the priest but that God was not part of۔پادری صاحب نے جو کہا ہے وہ شروع سے اب تک لاکھوں پادریوں کے دل کی آواز ہے اور قرآن اس سوال کا جواب چودہ سو سال پہلے دے چکا ہے کہ تجرد کی زندگی بسر کرنا چرچ کا اپنا فیصلہ تھا یا خدا نے ایسا حکم دیا تھا۔خدا فرماتا ہے: پھر ہم نے ان کے ( یعنی اولا دنوح وابراہیم کے بعد اپنے رسول ان کے نقش قدم پر چلا کر بھیجے اور عیسی بن مریم کو بھی ان کے نقش قدم پر چلایا اور