مکتوب آسٹریلیا — Page 363
363 تعداد اس سے بھی دس گنا زیادہ ہے۔ستاروں کی تعداد کا پہلا اندازہ جیسا اوپر بیان ہوا وہ دس ہزار ملین ملین ملین ( ۱۰۰ بلین × ۱۰۰ بلین) تھا جبکہ جدید اندازہ ستر ہزار ملین ملین ملین یعنی سات گناہ زیادہ ہے اور یہ اندازہ بھی کائنات کے صرف نظر آنے والے حصہ کا ہے۔علاوہ ازیں وہ کہتے ہیں کہ بے شمار ستارے ایسے ہیں جن کی روشنی ابھی تک ہم تک پہنچی ہی نہیں لہذاوہ نظر نہیں آسکتے۔بگ بینگ ( یعنی کن فیکون ) کا واقعہ اگر چہ ۱۱۳۰۷ ارب سال پہلے گزرا ہماری زمین کوئی ساڑھے چار ارب سال پہلے اپنی ماں (سورج) کے بطن سے علیحدہ ہوئی۔ڈاکٹر ڈرائیور سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ یقین رکھتے ہیں کہ زمین سے باہر بھی زندگی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ستر ہزار ملین ملین ملین ایک بہت بڑی تعداد ہے۔کہیں نہ کہیں زندگی کا پایا جا نانا گزیر (Inevitable) ہے۔(ماخوذ سڈنی مارننگ ہیرلڈ ۲۲ جولائی ۲۰۰۳ء) سوال کے دوسرے حصہ پر تحقیق ملبورن کی SwinBurne University of Tecnology اور سڈنی کی NSW یونیورسٹی نے مل کر کی ہے۔لیکن ان کی سٹڈی صرف ہماری اپنی کہکشاں تک ہی محدود ہے جس کا حصہ ہمارا نظام شمسی اور ہماری زمین ہے۔ہمیں دلچسپی بھی زیادہ اسی میں ہے۔دوسری اربوں کہکشائیں تو ہم سے بہت ہی دور ہیں۔یہ اندازہ لگانے کے لئے کہ زندگی کتنے سیاروں میں پائی جاسکتی ہے انہوں نے پہلے یہ طے کیا کہ زندگی کے قیام کے لئے کن حالات اور چیزوں کا پایا جانا ضروری ہے اور پھر ایسے سیاروں کا اندازہ لگایا جائے جن میں مناسب حالات پائے جاتے ہیں۔مثلاً وہ کہتے ہیں کہ کہکشاں بھی ایک شہر کی طرح ہوتی ہے۔شہر کے جس علاقہ میں گھر قریب قریب ہوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہاں آبادی زیادہ ہوگی۔اسی طریق پر ہمیں امید رکھنی چاہئے کہ جس علاقہ میں ستاروں کے جھرمٹ ہوں گے وہاں زندگی کے قابل سیاروں کے پائے جانے کا زیادہ امکان ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ جب تک بعض عناصر (Elements) سیاروں میں نہ پائے جائیں زندگی نہیں ہوگی مثلا کار بن، آکسیجن ، نائٹروجن اور بھاری دھاتیں (Matals) وغیرہ لیکن یہ دھاتیں بھی ایک خاص حد کے اندر ہونی چاہئیں۔نہ بہت زیادہ ہونی چاہئیں نہ بہت کم تیسری بات یہ کہ زندگی کے قیام کے مناسب حال سیارے نہ تو کہکشاں کے مرکز سے بہت دور ہونے