مکتوب آسٹریلیا — Page 290
290 شہبِ ثاقبہ کا ایک کام شیطانوں کو رجم کرنا بھی ہے یہ سوال اکثر اپنے بھی پوچھتے ہیں اور غیر بھی کہ ٹوٹنے والے ستاروں کا شیطانوں کو رجم کرنے اور ان کو پتھر اور آگ کی سزا دینے سے کیا تعلق ہے۔شیطانوں کو گھات میں بیٹھ کر خدائی وحی کو چوری چھپے سنے کی کوشش کرنا اور ایک آدھ بات کو اچک لینے سے کیا مراد ہے اور یہ شیطان جنوں میں سے ہیں یا انسانوں میں سے؟ ہر زمانہ میں علماء و صوفیاء اپنے اپنے رنگ میں ان سوالوں کے جواب دیتے رہے ہیں۔خاکسار اپنے اس مضمون میں ان جوابات کو پیش کرنے کی کوشش کرے گا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام - حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ۔حضرت مصلح موعودؓ۔اور حضرت خلیفتہ امسیح الرابع رحمہ اللہ نے ارشاد فرمائے۔سارے پھل ہی خوشبودار اور لذیز ہیں جو چاہیں لے لیں۔قرآن کریم میں آسمانوں کی حفاظت اور رجوم الشیاطین کا ذکر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قرآن کریم میں آسمان سے مہب یا پتھر پڑنے کا ذکر یا آسمانوں کی حفاظت کا ذکر مندرجہ ذیل سورتوں میں ہے (۱) سورہ حجر زیر تفسیر آیت (یعنی ۷:۱۵ اناقل ) (۲) سوره ملک رکوع ۱ ( یعنی ۶:۶۷ ناقل) اس میں آتا ہے وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَا هَا رُجُومًا لِلشَّيطِيْنِ ہم نے