مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 267 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 267

267 والے دھوئیں پر ضرور ہے۔انسانی جبلت میں ہر طرح کی خواہشات موجود ہوتی ہیں جواکثر ایک دوسرے سے متضاد بھی ہوتی ہیں۔مثلاً ایک طالب علم کرکٹ کا بے حد شوقین ہے لیکن اتفاق سے میچ کے روز اس کا امتحان بھی ہے۔وہ دونوں میں سے کوئی بھی چھوڑ نا نہیں چاہتا۔ایک طرف میچ دیکھنے کی شدید خواہش ، دوسری طرف امتحان پاس کرنے کی شدید خواہش۔آخر وہ اپنا مجموعی بھلا امتحان پاس کرنے میں سمجھتا ہے تو اس کی خاطر کھیل کود کی خواہش کو قربان کر دیتا ہے۔اسی کو ارادہ یا ضمیر کہتے ہیں۔یہ انسانی ضمیر ہی ہے جو اس کو بتاتی ہے کہ کون سا کام اچھا ہے اور کون سا برا ( یعنی اس کی فطرت میں فسق و فجور اور تقویٰ کی راہوں میں امتیاز کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔) اخلاق کی بنیاد تعریف (Praise) اور ملامت (Blame) کے دوستونوں پر کھڑی ہوتی ہے۔لیکن اگر کوئی انسان اپنے عمل میں آزاد نہیں تو نہ وہ اچھے کام کی تعریف کا مستحق رہتا ہے نہ برے کام کی مذمت کا سزاوار اور اس طرح اخلاقیات کی عمارت ہی دھڑام سے گر جاتی ہے۔مغربی کلچر کی بنیاد ہی گو یا اس بات پر ہے کہ انسان اپنے لاشعور میں دبی ہوئی دلی خواہشات کے آگے بے بس ہے۔لہذا اسے اپنے فکر و عمل میں مکمل آزادی ہونی چاہیئے۔وہ اپنے لئے خود ضابطہ حیات وضع کر سکتا ہے اور اسے کسی آسمانی رہنمائی کی حاجت نہیں۔اس سوچ کا نتیجہ مادہ پرستی اور نفسانی لذات کی بے محابا تسکین کی صورت میں نکلتا ہے۔آسٹریلیا میں گزشتہ دس سال میں بن بیاہی ماؤں کے ہاں بچوں کی پیدائش میں ستر فیصد اضافہ بھی اسی سوچ اور کلچر کی ہی پیداوار ہے۔(الفضل انٹر نیشنل 18۔9۔98)