مکتوب آسٹریلیا — Page 266
266 فلاسفروں ، ادیبوں ، شاعروں ، استادوں ، آرٹسٹوں اور سیاسی وسماجی رہنماؤں نے تسلیم کر لیا اور اسے اپنی زندگیوں میں جاری وساری کر دیا اور پھر ان کی دیکھا دیکھی عوام الناس بھی جو اپنے بادشاہوں کے دین پر ہوتے ہیں وہ بھی اسی ڈگر پر چل پڑے۔اگر چہ ان کی اکثریت ایسی تھی کہ انہوں نے فلسفہ کی کسی کتاب کو ہاتھ نہ لگایا تھاوہ فقط اس ماحول میں سانس لیتے تھے جس میں اس جدید فلسفہ کا دھواں بکھر چکا تھا۔جدید فلسفہ کی وہ شاخ جس نے مغربی یا عیسائی کلچر کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے اسکا بانی سگمنڈ فرائیڈ ہے۔فرائیڈ نے کہا کہ انسانی ذہن کے دو حصے ہیں ایک شعور (Conscience) اور دوسرا لا شعور (Uncncience) انسان شعوری طور پر جو بھی سوچتا ہے، خواہش کرتا ہے یا کوئی کام کرتا ہے اس کا اصل منبع و مرکز اس کا لاشعور ہوتا ہے۔اس لاشعور کو اس کی جبلت یاInstinct بھی کہہ سکتے ہیں۔ہمیں لاشعور کا نہ کوئی علم ہے نہ اس پر کوئی کنٹرول ہے۔ہمیں اس پر آگاہی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب ہم سے کوئی قول و فعل سرزد ہوتا ہے۔چونکہ ہم لاشعور کو کنٹرول نہیں کر سکتے اس لئے لاشعوری طور پر جب ہم کوئی کام کرتے ہیں تو ہم اس کے لئے ذمہ دار بھی نہیں ٹھہرائے جاسکتے۔لاشعور سے اٹھنے والی خواہشات (Desires) نے ہی ہمیں بتانا ہے کہ ہم کیا سوچیں اور کیا کریں۔ہمارا شعور البتہ بہت چالاک ہے وہ ہماری پوشیدہ خواہشات کو اس طرز اور رنگ میں پیش کرتا ہے کہ سماج اسے قبول کرے۔اس کو شعور کی تہذیبی کوشش (Sublimation) کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔لاشعور میں جو کھچڑی پکتی رہتی ہے اسکا ہمیں کوئی علم نہیں ہوتا البتہ ہمارے تمام شعوری کام اس کی ضمنی پیداوار (By-Product) ہوتے ہیں۔ہمارے جذبات وخواہشات اور ان کے زیر اثر واقع ہونے والے کام اس دھوئیں کی طرح ہیں جو اس آگ سے اٹھتا ہے جو ہمارے لاشعور میں بھڑک رہی ہے نہ آگ ہمارے بس میں ہے نہ دھواں۔فرائیڈ کا لاشعور انسان کی جبلت (Instinct) کی طرح ہے یعنی انسان و حیوان دونوں کوئی کام اپنی جبلت کے خلاف نہیں کر سکتے۔گویا فرائیڈ کے نزدیک انسان اپنے اعمال میں مختار اور آزاد نہیں بلکہ مجبور ہے ایسے ہی جیسے حیوان ہے۔اس کے مقابلہ میں بعض دوسرے فلاسفر کہتے ہیں کہ انسان میں شعور کے علاوہ ارادہ (Will) کی قوت بھی پائی جاتی ہے۔مانا کہ ہمیں لاشعور کی آگ پر اختیار نہیں لیکن اس سے اٹھنے