مکتوب آسٹریلیا — Page 237
237 جو گزرتی ہے اس کا بچہ کی نشو و نما اور نفسیات پر گہرا اثر پڑتا ہے۔وہ کہتے ہیں ہماری آبادی کا چوتھا حصہ ۴۵ سال کی عمر کے بعد ہائی بلڈ پریشر کا مریض ہو جاتا ہے جس سے فالج اور امراض قلب پیدا ہوتے ہیں۔لہذا یہ بہت ضروری ہے کہ حاملہ عورتوں کا ماحول خوشگوار رکھا جائے اور ان کو Stress سے بچایا جائے ورنہ امکان ہے کہ ان کے بچوں کو اس کے بدنتائج ۴۵ سال کی عمر کے بعد بھگتنا پڑیں گے۔ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ جب حاملہ عورتوں کو کوئی تشویش کی بات پیش آئے تو وہ اپنی توجہ ادھر سے ہٹانے کے لئے ایک سے دس تک گنتی توجہ سے شروع کریں اس سے افاقہ ہوگا۔(ماخوذ سڈنی ہیرلڈ ۸ مئی ۱۹۹۸ء) گنتی کی بجائے اگر نماز ، دعا، استغفار اور درود شریف سمجھ مجھ کر پڑھا جائے اور خدا کی رضا پر راضی رہنے کے لئے اپنے آپ کو آمادہ کیا جائے تو امید ہے کہ یہ فارمولا سٹریس کو دور کرنے کے لئے گنتی کی نسبت کہیں زیادہ مؤثر ہوگا۔نیز اس تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ اپنے گھر کے ماحول کو خوشگوار رکھنا اور فکر و تشویش (Stress & Tension) کو خواہ مخواہ پیدا نہ ہونے دینا نہ صرف اپنی صحت کے لئے بلکہ اپنے بچوں کی صحت کے لئے بھی ضروری ہے۔جو طبائع ہر وقت فکر و تشویش میں مبتلا رہتی ہیں ہوسکتا ہے کہ ان کے لاشعور میں وہی تشویش ڈیرے ڈالے ہوئے جوان کی ماں کو ان کی پیدائش سے پہلے رہا کرتی تھی۔بہر حال خدا کے قانون میں ہر چیز خواہ ایٹم کے برابر چھوٹی ہو، اچھی یا بری اپنا نتیجہ پیدا کئے بغیر نہیں رہتی۔جیسے فرمایا کہ جو ذرہ برابر بھی نیک یا براعمل کرے گا وہ اس کا نتیجہ دیکھ لے گا۔(سورۃ الزلزال ) سوائے اس کے کہ خدا اس کے بدنتائج کو اپنے فضل سے محوکر دے جیسا کہ قرآن کریم میں دوسرے مقامات پر مذکور ہے۔( الفضل ان نیشنل 19۔6۔98)