مکتوب آسٹریلیا — Page 208
208 مغربی معاشرہ میں بچوں کے دکھ مادہ پرستی کی حد تک بڑھی ہوئی حب دنیا اور خود غرضی اور جنسی بے راہ روای اور منشیات کے استعمال نے گھروں کا جو امن بر باد کر رکھا ہے اس کا سب سے دردناک شکار نھے منے بچے ہیں۔آسٹریلیا میں حکومت نے بچوں کی شکایات سننے اور ان کو مشورہ دینے کے لئے ٹیلیفون کی ایک مفت خدمت مہیا کی ہوئی ہے جس کا نمبر ۱۸۰۰۵۵۱۸۰۰ ہے۔ایک خبر کے مطابق گذشتہ دو سالوں میں تالیس ہزار (۴۳۰۰۰ ) بچوں نے اس ادارہ کو فون کئے جس سے اس مسئلہ کی شدت کا پتہ لگتا ہے۔یہ ساری شکایات چونکہ ریکارڈ پر رکھی گئی تھیں اب ان کا تجزیہ شائع ہوا ہے۔بعض دفعہ پانچ سال کی عمر کے بچوں نے بھی فون پر بتایا کہ وہ سخت پریشان ہیں ، والدین آپس میں لڑتے جھگڑتے ہیں، اندر ہی اندر کچھ کھچڑی پک رہی ہے ہمیں اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے۔زیادہ جھگڑے لین دین اور خرچ کے معاملات پر ہوتے ہیں۔کاش ہم کچھ کر سکتے اور کما کر والدین کو دے سکتے تا ان کے جھگڑے ختم ہو جاتے۔والدین کی علیحدگی کا خوف ہر وقت ان کے ننھے ذہنوں پر مستولی رہتا ہے۔بعض چھوٹے چھوٹے بچے بچیاں لوگوں کے گھروں میں جا کر چاکلیٹ وغیرہ بیچ کر یا ان کے گھروں کے چھوٹے موٹے کام کر کے اپنے والدین کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ہیں فیصد شکایات گھریلو مسائل کے بارہ میں تھیں جو شکایات میں سے سب سے بڑی تعداد میں تھیں۔