مکتوب آسٹریلیا — Page 184
184 شادی اب بھی مستحکم معاشرہ قائم کرنے کے لئے کنجی کی حیثیت رکھتی ہے بوسٹن یونیورسٹی کی پروفیسر Brigitte Berger جومشہور ماہر عمرانیات (Sociologist) ہیں نے سڈنی میں اپنی تقریر میں شادی کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج بالعموم میاں بیوی اور بچوں کے روائتی خاندان کو نفرت اور مذمت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے لیکن یہی وہ طاقت تھی جس کے نتیجہ میں مغرب کا جمہوری اور خوش حال معاشرہ وجود میں آیا تھا اور دونوں کی قسمت با ہم نہ کھل سکنے کے انداز میں بندھی ہوئی ہے۔مستقبل کے جو تیکنیکی مسائل ہیں ان کو حل کرنے کے لئے نفسیاتی طور پر مطمئن فعال متحرک اچھے تعلیم یافتہ اور اخلاقی لحاظ سے ذمہ دار افراد کی ضرورت ہے اور ایسے بچے شادی شدہ مطئمن گھرانوں ہی کی پیداوار ہو سکتے ہیں۔تمہیں سال قبل خاندان کی مرکزیت کے خلاف جنگ شروع کی گئی تھی اس کے نتیجہ میں مغربی حکومتیں مجبور ہوگئیں کہ غیر شادی شدہ گھرانوں کو بھی برابری کا درجہ دے دیا جائے۔اس سے خاندان کی ایسی شکل ابھری جس نے غیر قانونیت ، جرائم ، ڈرگ کا استعمال عنفوان شباب کے حمل، غیر شادی شدہ ماؤں اور غیر ذمہ دار مفت خوروں کے سیلاب کو بے قابو کر دیا ہے۔مغربی حکومتوں نے ایسے افراد کو بجائے سوسائٹی میں مدغم کرنے کے ایسی پالیسیاں وضع کیں جس سے یہ لوگ سوسائٹی پر بوجھ بنتے چلے گئے