مکتوب آسٹریلیا — Page 6
6 وہ بادشاہ آیا۔دوسرے نے کہا ابھی تو اس نے قاضی بننا ہے۔فرمایا : قاضی حکم کو بھی کہتے ہیں۔قاضی وہ ہے جو تائید حق کرے اور باطل کو رد کرے۔“ ( تذکره صفحه (۶۹) (۲) ۲۸ مئی ۱۹۷ء : شریف احمد کی نسبت اس کی بیماری میں الہامات ہوۓ۔عَمَّرَهُ اللهُ عَلَى خِلَافِ التَّوَقُعِ أَمَرَهُ اللَّهُ عَلَى خِلافِ التَّوَقُعِ اَءَ نْتَ لَا تَعْرِفِيْنَ الْقَدِيْرَ مُرَادُكَ حَاصِلُ اللَّهُ ( تذکره صفحه ۷۲۰ تا ۷۲۱ ) خَيْرٌ حَافِظاً وَهُوَ أَرْحَمُ الرّاحِمِيْنِ (۳) ۱۹۰۳ء : ” چند سال ہوئے ایک دفعہ ہم نے عالم کشف میں اسی لڑکے شریف احمد کے متعلق کہا تھا کہ : ” اب تو ہماری جگہ بیٹھ اور ہم چلتے 66 ہیں۔" ( تذکره صفحه ۴۸۷) ان پیشگوئیوں میں حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی نسل میں ایک وجود کے پیدا ہونے کی خبر ملتی ہے جس کے سر پر خلافت کی پگڑی رکھی جائے گی۔وہ روحانی بادشاہ ہوگا اور اس کو روحانی سلطنت عطا کی جائے گی اور اس مقام پر پہنچنے سے پہلے اس کو ایسی خدمت دین کی توفیق دی جائے گی جس سے حق کی تائید اور باطل کا رد ہو۔اور اللہ تعالیٰ اُسے توقع کے خلاف عمر دے گا اور بغیر کسی توقع یا امید کے مومنوں کا امیر بنادے گا۔یہ قدیر خدا کے کام ہیں جو چاہے وہ کرے۔اور اس کے ذریعہ حضرت مسیح موعود کی مراد یعنی غلبہ اسلام حاصل ہوگا۔اللہ اس کا حافظ ہوگا اور اس کی رحمت کا سامیہ اس کے سر پر ہوگا۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جگہ بیٹھے گا یعنی خلیفہ ایسے ہوگا۔واللہ اعلم بالصواب ہماری خواہش اور عاجزانہ دعا ہے کہ یہ ساری پیشگوئیاں پوری شان کے ساتھ حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ کی ذات میں پوری ہوں۔آمین ( الفضل انٹرنیشنل 23۔5۔03)