مکتوب آسٹریلیا — Page 109
109 بلی نے اپنے مالک کو قتل کے الزام میں پکڑ وادیا عدالتوں میں ثبوت جرم کے لئے انسانوں کے ڈی این اے (DNA) تو اب تک استعمال ہوتے رہے ہیں لیکن کینیڈا کی عدالتی تاریخ میں پہلی بار ایک ملزم کو کسی حیوان کے ڈی این اے کی گواہی پر سزا ملی ہے۔رسالہ نیچے واقعہ کو بیان کر کے لکھتا ہے کہ یہ ایک ایسی عدالتی نظیر ہے جس سے جرم کی تفتیش کا ایک نیا باب کھل گیا ہے۔واقعات کے مطابق اکتوبر ۱۹۹۴ ء میں ایک بتیس سالہ عورت جو کینیڈا کے پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ کی رہنے والی تھی اچانک گھر سے غائب ہوگئی۔پولیس نے چند روز کے بعد اس کی خون آلود کا رکو برآمد کر لیا جو وقوع قتل کے بعد کہیں چھوڑ دی گئی تھی۔مزید تین ہفتوں کے بعدا یک مردانہ جیکٹ بھی کہیں پڑی ہوئی مل گئی جس پر مقتولہ کے خون کے چھینٹے اور کسی بلی کے ستائیس بال گرے ہوئے تھے۔یہ بال قاتل کی اپنی بلی کے تھے اور انہی نے اپنے مالک کے خلاف گواہ بن کر اسے پکڑوا دیا۔پولیس نے پہلے تو جیکٹ پر گرے ہوئے بالوں کا تجزیہ کر کے ان کا ڈی این اے حاصل کیا اور پھر مشتبہ فرد کی بلی کے ڈی این اے سے مقابلہ کیا تو وہ دونوں ایک نکلے۔پھر مزید تسلی کے لئے کینیڈا اور امریکہ کی اٹھائیس بلیوں کے ڈی این اے حاصل کر کے ان سے مقابلہ کیا لیکن وہ سب مختلف نکلے۔چنانچہ بلی کا مالک گرفتار کر لیا اور جیوری کے سامنے بلی کی گواہی پیش کی گئی جو تسلیم کر لی گئی اور قاتل کو سزائے موت دی گئی۔قاتل مقتولہ کا ڈی فیکٹو ( بالفعل ) خاوند تھا۔اور دونوں کے تعلقات