مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 104 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 104

104 دنیا بھر کے سائنس دانوں کی دوڑ لگی ہوئی ہے خاص طور پر ایسی دوائیں بنانے کے لئے جن کا تعلق کسی رنگ میں وراثتی بیماری سے ہو۔ڈی این اے کے نشانات DNA Fingerprints جو برطانیہ کی پولیس اب جمع کر رہی ہے۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جسم کے لعابات (خون ، پسینہ آنسو، لعاب دہن، منی وغیرہ) کے معمولی نشانات کو پہلے ہزاروں لاکھوں گنا بڑھایا جاتا ہے۔اس عمل کو Polymerase Chain Reaction کہا جاتا ہے۔یہ لاکھوں گنا بڑھائے ہوئے۔DNA کے ساتھ ایک Radioactive Tag ملا دیا جاتا ہے۔اس سے DNA کی ترتیب قائم ہو جاتی ہے۔پھر اس میں سے بجلی گزار کے چھوٹے بڑے ٹکڑے الگ الگ کئے جاتے ہیں۔پھرا ایکس رہے کے ذریعہ سے ان کا معائنہ کیا جاتا ہے۔بہر حال یہ طریقہ اب امریکہ، آسٹریلیا وغیرہ میں بھی مجرموں کی شناخت کے لئے استعمال ہونا شروع ہو گیا ہے۔اور اس طرح خود انسان اپنے خلاف نا قابل تر دید گواہی دیتا ہے۔قرآن کریم میں خود اپنے خلاف گواہی دینے کا ذکر موجود ہے۔خدا فرماتا ہے: اور جس دن اللہ کے دشمن (یعنی کافر) زندہ کر کے آگ کی طرف لے جائے جائیں گے پھر ان کو مختلف درجوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔یہاں تک کہ جب وہ دوزخ کے پاس پہنچ جائیں گے ان کے کان اور آنکھیں اور ان کے چمڑے ان کے عمل کی وجہ سے ان کے خلاف گواہی دیں گے۔اور وہ اپنے چمڑوں سے کہیں گے تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی ؟ اور ان کے چمڑے جواب میں کہیں گے ہم سے اسی خدا نے کلام کروایا ہے جس نے ہر چیز سے کلام کروایا ہے اور اس نے تم کو پہلی دفعہ بھی پیدا کیا تھا اور پھر بھی تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔“ 66 ( حم السجدہ : ۲۰-۲۲) (الفضل انٹرنیشنل)