مکتوب آسٹریلیا — Page 102
102 انسانی اعضاء کی خود اپنے خلاف گواہی سائنس اتنی ترقی کر گئی ہے کہ اب مجرم کے جسم کا ذرہ ذرہ اس کا خون ، پسینہ، آنسو، لعاب دہن اور ایک ایک بال خود اپنے خلاف گواہی دینے لگا ہے۔دنیا کے بہت سے ممالک میں مجرم کی شناخت کے لئے اس کےD۔N۔A کے تجزیہ کو تسلیم کیا جانے لگا ہے۔برطانیہ میں حال ہی میں پولیس کو اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی ملزم کا بال یا لعاب زبر دستی حاصل کر سکتے ہیں۔بال کی جڑ D۔N۔A کا مفید ترین گڑھ ہوتی ہے۔البتہ خون حاصل کرنے کے لئے اگر ملزم انکاری ہو تو مجسٹریٹ سے اجازت نامہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔حکومت کو امید ہے کہ ان نئے قوانین کو بروئے کارلاکر صدی کے خاتمہ تکD۔N۔A کی پچاس لاکھ تجزیاتی رپورٹوں کو اپنی کمپیوٹروں کی لائبریری میں جمع کرسکیں گے جس سے مجرموں کو ۹۹ فیصد سے زائد درستگی کے ساتھ شناخت کیا جاسکے گا۔اس سے جرائم کو کنٹرول کرنے میں بہت مفید مدد ملے گی۔اگر صحیح طریق کار اختیار کیا جائے توD۔N۔A کے تجزیہ کے نتائج حیران کن حد تک درست ثابت ہوتے ہیں۔تین کروڑ انسانوں میں سے شاید دو افراد ایسے نکل آئیں جن کی D۔N۔A کی تصویر ایک جیسی ہو۔پولیس کو یقین ہے کہ اس ذریعہ سے مجرموں کو پکڑنے میں بہت آسانی ہو جائے گی۔برطانیہ اور ویلز میں پر تشدد جرائم کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے گزشتہ سال ایسے جرائم میں ۵۶۹ فیصد اضافہ ہوا جب کہ قتل کی وارداتوں میں ۸۶۵ فیصد اضافہ ہوا۔مشکوک کردار کے حامل افراد کا D۔N۔A ریکارڈ کمپیوٹر پر ہوگا۔موقع واردات پر پائی جانے والے جسم کے لعاب، بال وغیرہ کے معائنہ سے فوراً مجرم کا پتہ چل