مجالس عرفان — Page 98
۹۸ تو پہلے سے طے شدہ ہیں۔آدم سے لے کر حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود تک مذہب کی تاریخ خوب کھول کھول کر قرآن کریم نے بیان فرما دی ہے۔تو کیا ایک بھی امام ایسا آیا تھا جو سچا تھا اور وقت کے علماء نے اس کے گلے میں ہار ڈالے تھے ؟ یا جوتیاں برسائیں تھیں کوئی ایک بھی امام ایسا تھا جس کے اوپر مٹھائیاں تقسیم کی تھیں ؟ نہیں ! ان کے کھانے بند کر دیتے تھے ، ان کے بائیکاٹ کئے تھے۔کوئی امام ایسا تھا جس کو سر آنکھوں پر بٹھایا ہو اس وقت کے لوگوں نے ؟ سر آنکھوں پر بٹھانا تو کیا گلیوں میں ان کو اور ان کے ماننے والوں کو گھسیٹا جاتا تھا۔وہ کہتے تھے ہم ایمان لے آئے ہیں کہتے تھے اچھا اب تم جھوٹے امام پر ایمان لے آئے ہو۔تمہارا علاج یہ ہے کہ کتوں کی طرح تمہارے پاؤں سے رسیاں باندھی جائیں اور پھر یلی گلیوں میں گھسیٹا جائے یہاں تک کہ بدن سے جلد اتر کر تمہاری ہڈیاں تنگی ہو جائیں۔اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپؐ کے ماننے والوں سے قوم نے اسی طرح سلوک کیا کہ حضرت بلان کو اس طرح بنا دیتے تھے زبر دستی قیمتی ہوئی زمین پر کہ اس کے اوپر پتھر کی گرم سیل رکھ دیتے تھے اور جو چھالے اُبلتے تھے ان کے پانی سے وہ پتھر اور زمین ٹھنڈی ہوا کرتی تھی اور آپ نے بے ہوش ہو جایا کرتے تھے۔پھر ہوش آتی تھی تو پھر نئی گرم زمین اور نیا پتھر۔اور جب بے ہوش ہوتے تھے اور پھر ہوش آتی تھی تو کہتے تھے بتاؤ یہ سچا ہے یا جھوٹا ہے ؟ تو وہ صرف اَشْهَدُ ان لا الله کہتے تھے پھر بے ہوش ہو جاتے تھے۔ایسی حالت میں ان کو حضرت ابو بکر صدیق نے دیکھا تو پھر ان کو آزاد کرایا۔یہی کیفیت ایک لو ہار غلام مصطفی کی تھی۔اس کی اپنی بھٹی تھی جسے وہ جھوٹ کا کرتا تھا۔اس میں سے کو ٹلے نکالے اور کوئلوں کے اوپر ان کو لٹا دیا اور اوپر پتھر کی