مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 97 of 142

مجالس عرفان — Page 97

ہمیں یہ قبول نہیں کہ ہم اس کو امام بنالیں یہ ہے ہمارا بنیادی اختلاف اور اس میں دراصل اختلاف ہے ہمارے اور آپ کے تصویر کا کہ دنیا میں امام کیسے آیا کرتے ہیں ، ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔آپ کو سب سے بڑا اعتراض حضرت مرزا صاحب کو ماننے پر عملاً یہ ہے کہ اس کے آنے پر تو اس کی کوئی آدھگت نہیں ہوئی۔اگر یہ سچا ہوتا تو وقت کے علماء تو جا کر اس کے گلے میں ہار ڈالتے شیر فیاں تقسیم ہوتیں، ساری محفلوں اور انجمنوں میں اس کے گیت گائے جاتے کہ الحمد للہ آنے والا آ گیا ہے۔ہم بھی مان جاتے۔مگر اس کو تو سب نے چھوڑ دیا۔ایسا آیا کہ گھر والے بھی مخالف ہو گئے۔ایسا آیا کہ جو پہلے تعریف کیا کرتے تھے وہ بھی جان کے دشمن ہو گئے۔سارے ہندوستان کے لوگ مدعاؤں کے خط لکھا کرتے تھے۔یہ اچھا امام ہے کہ جب اس نے دعوی کیا تو انہوں نے گالیاں دینی شروع کردیں ، انہوں نے قتل کے فتوے دینے شروع کر دیئے ، انہوں نے ہر قسم کی گالیاں دیں اور یہ کہا کہ یہ دجال ہے۔تو ہمارا امام تو ایسا نہیں ہوگا۔ہمارا امام جب آئے گا تو اس کے لئے Red carpets بچھائے جائیں گئے ساری قومیں اس کے اوپر ہار ڈالیں گی، علماء شیر پنیاں تقسیم کروائیں گے مسجدوں میں نعت خوانیاں ہوں گی کہ الحمد للہ امام آگیا۔جب تک ایسا امام نہ آجائے آپ کو یقین نہیں آتا اور ہمارے اور آپ کے تصور کا فرق جو ہے وہ آپ میں آپ کو بتاتا ہوں۔ہم کہتے ہیں کہ ایسا امام جیسا آپ سوچ رہی ہیں یا بعض سورچ رہے ہیں وہ آج تک کبھی نہیں آیا اور نہ کبھی آسکتا ہے۔کیونکہ گذشتہ اکین کے کی طرز سے ہٹ کر ان کے رستے سے ہٹ کہ جو آئے گا وہ سچا کہاں سے ہوگا۔وہ تو جھوٹا ہو گا۔آنے والوں کے ساتھ کیا سلوک ہوا۔آنے والوں نے کیا طریق اختیار کیا کس طرح دعوے کئے۔قوم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا۔یہ ساری باتیں