مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 94 of 142

مجالس عرفان — Page 94

۹۴ طور پر پھر آگے ان کی نسل جاری نہیں رہی اس لئے وہ دنیا سے غائب ہو گئے۔بالکل غلط ہے۔قرآن کریم کا مفہوم جب تک روحانی معنوں میں نہ سمجھو فرمنی اور قصے کہانیوں والا کردار آجاتا ہے اور جس جانور کا کر دار نمایاں طور پر کسی قوم میں آجائے وہ متخق کہلاتی ہے وہ نام پانے کی۔قرآن نے سور اور بندر جو ان علماء کو کہا ان خاتون کی رو سے جنہوں نے سوال کیا ہے یہ تو بڑی خطر ناک گالی بن گئی نا اور کلام الہی نہیں لگتا۔نعوذ باللہ من ذالك لیکن جن معنوں میں ہم اس کو سمجھتے ہیں میں ان کو بتا دیتا ہوں کہ کلام الہی کی یہی شان بھی کہ اس طرح باتیں کرے۔سٹوکہ ایک تہذیب ہے۔اس کے اندر سارے جانوروں سے بڑھ کر بعض جنسی گندگیاں پائی جاتی ہیں۔جس قوم میں وہ گندگیاں آجائیں اس کو سٹور سے مثال دنیا بعیت ہے برقی مثال ہے اور ایک لفظ میں ساری بیماری کی تفصیل آجاتی ہے۔قومی اصلاح کی خاطر سچی بات کرنے کو سختی پر محمول نہیں کیا جاتا آب میں آپ کی مجلس میں تفصیل سے تو بیان نہیں کر سکتا۔لیکن آپ غور کریں کتابیں پڑھیں تو آپ کو پتہ لگ جائے گا کہ سٹور ساری دنیا کے جانوروں میں بعض قسم کی بے حیائیوں میں ممتاز ہے اور وہ بے حیائیاں یہود علماء میں آچکی تھیں۔اور اس وقت ان کا نام سو کر رکھنا قرآن کی رو سے ایک امر واقعہ کا اظہار تھا بنانے کے لئے کہ تمہارے دینی رہنماؤں کا تو یہ حال ہے اور تم مقابلے کرتے ہو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے۔پھر اگلی بات یہ ہے کہ سو نہ اجائے تا بہت ہے۔جس کھیت میں جائے وہاں ہل چلا دیتا ہے۔کھانا اتنا نہیں جتنا اُجاڑتا ہے۔میرے بھی ربوہ کے پاس