مجالس عرفان — Page 86
A4 ضرورت نہیں کیونکہ مسلم کی حدیث میں چار مرتبہ آنے والے نازل ہونے والے بیح کو نبی اللہ نبی اللہ نبی اللہ بھی اللہ فرمایا گیا۔تو جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمائیں کہ میرے بعد آئے گا اور خالہ کے طور پر آئے گا دنیا میں کون عالم اور غیر عالم ہے جو اس سے اس لقب کو چھین لے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمایا ہے۔پس آنے والوں کے دو تصورات ہیں۔ان دونوں کے ساتھ نبوت لازما ہے۔لیکن وہ نبوت جو خادم کی نبوت ہے ، غلام محمد مصطفی کی نبوت ہے ، آپؐ سے باہر والے کی نہیں جب تک وہ امتی نہیں ہوگا جب تک اسی شریعت کا پابند نہیں۔ہو گا اس کو کوئی مقام نہیں مل سکتا۔جب امتی کو مقام ملے گا تو اس کا نام شام مہدی رکھا جائے گا اور اسی کو نبوت کہتے ہیں۔اس سلسلہ میں آخری بات جو نہیں کہنا چاہتا ہوں وہ علمی ہے۔آپ قرآن کریم سے اگر خورد نکال سکتی ہیں تو خود نکالیں ورنہ علماء سے پوچھ لیں کہ یہ آیت جو قرآن کریم میں آئی ہے یہ ایک سے زائد مرتبہ قرآن کریم میں آئی ہے۔اس میں امام مہدی کا ذکر موجود ہے۔اس میں یہ بتایا گیاہے کہ امام مہدی کون ہوتا ہے۔اور بالکل معاملہ کھل جاتا ہے۔اس آیت کی رو سے جو میں ابھی پڑھوں گا امام مہدی اور نبی ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔کوئی فرق نہیں ہے۔چنانچہ قرآن کریم انبیاء کا ذکر کر کے فرماتا ہے۔وجعلتهم ايمة لهدون بأمرنا ( انبياء ) یہ وہ لوگ ہیں یعنی سارے انبیاء جن کو ہم نے امام بنایا تھا۔ادمة جمع ہے امام کی يَهُدُونَ بامرنا ترجمہ ہے مہدی کا یعنی اس ترجمے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ احمدی ترجمہ اور کریں اور غیر احمدی علماء