مجالس عرفان — Page 85
AD آپ کا بھی یہی عقیدہ ہے اور اگر یہ نہیں ہے تو پھر آپ علماء کے سامنے اپنا نیا عقیدہ بیان کریں۔وہ آپ کو کا فر قرار دے دیں گے۔کیونکہ امام مہدی کے متعلق جو یہ دو بائیں نہ مانے اس کو سارے علماء کا فر کہتے ہیں پھر بھی آپ نے ہمارے ساتھ ہی آتا ہے تو نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔اگر عقل سے غور کریں اور عقائد کا تجزیہ کریں۔یعنی جذباتی باتوں میں پڑ کر لوگوں کے کافر کہنے میں آگر آپ جو مرمنی سوچ لیں وہ الگ بات ہے مگر تقویٰ اور انصاف کے ساتھ۔عور تو کریں کہ جس امام مہدی کا آپ انتظار کر رہی ہیں وہ بنے گا کیلئے اس کا ماننا ضروری ہو گا کہ نہیں ، خدا کھڑا کرے گا کہ بندوں نے بنایا ہوگا ہے جب ان باتوں پر آپ پہنچیں گی تو اس عقیدے پر پہنچے بغیر چارہ نہیں جو ہمارا عقیدہ ہے اس کے بغیر تصور ہی کوئی نہیں امام مہدی کا ! اور جب آپ وہاں پہنچیں گی تو ہمیں کافر کہہ رہی ہوں گی۔اور آپ مومن رہیں گی ، یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ یہ تو تقویٰ کے خلاف بات ہے کہ ایک ہی جرم کی الگ الگ سزائیں دیدی جائیں، اور اگر بہٹ جائیں گی اس عقیدے سے تو علماء کہیں گے تم اسلام سے نکل گئی ہو۔اس لئے فرق فرمنی ہے۔از قرآن مہدی کی تعریف مطروسین اللہ کے سوا کسی اور پر صادق نہیں آتی اصل بات یہ ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس امام مہدی کی خبر دی تھی اس کا مقام امتی نبی کا ہے، کیونکہ خدا اسے بنائے گا۔اس کا مقام امتی نبی کا ہے، کیونکہ اس کے انکار کی خدا اجازت نہیں دے گا۔اس سے زیادہ ہمارا عقیدہ ہی کوئی نہیں۔باقی سب فرضی تھتے ہیں اور جہاں یک میسی کا تعلق ہے ، عیسی کی آمد ثانی کا اُس کے متعلق تو اتنی بھی بحث کی