مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 43 of 142

مجالس عرفان — Page 43

۴۳ نکاح کروائیں۔عجیب باتیں ہیں۔ہم تو یہ نہیں مانتے۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ نکاح ایک انسانی ضرورت ہے جو جائز طریق پر ہو جائے وہ اس طرح نہیں ٹوٹا کرتا اور امر واقعہ یہ ہے کہ اگر کوئی غیر احمدی خاوند کی بیوی ہے تو اس کا نکاح جائز رہے گا۔اس کو کوئی Problem نہیں۔ہاں معاشرتی مسائل اُٹھتے ہیں بعض صورتوں کو تنگ کیا جاتا ہے، بعضوں کو گھر بٹھا دیا جاتا ہے، بعض جگہ یہاں تک بھی ہوتا ہے کہ ہمارے سرگودھا میں ایک شیعہ دوست جو بڑے عالم تھے اور ذاکر تھے، وہ احمدی ہوئے تو اس کی بیٹیاں جہاں جہاں بیاہی گئیں تھیں حالانکہ وہ احمدی نہیں ہوئی تھیں۔اتنا کیا نکاح تھا بے چاریوں کا کہ باپ کے احمدی ہونے سے بیٹیوں کے نکاح ٹوٹ گئے اور سب کو گھر بٹھا دیا گیا اور بڑی دُکھ کی حالت میں مجھے ملے۔ان کی آنکھوں میں آنسو جاری تھے کہ میرا قصور تو چلو ہوگیا لیکن میری بچیوں کا کیا قصور تھا کہ میرے احمدی ہونے سے وہ میرے گھر میں آرہی ہیں اور بڑے دکھ کا حال ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں اپنے سامنے ساری بیٹیاں بیاہی ہوئی گھر میں لا کر بٹھا دیں۔تو یہ ظالمانہ باتیں ہیں۔ان کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے ان چیزوں کا کوئی تعلق نہیں ہے۔آپ کو خدا نے توفیق بخشی ہے، آپ احمدی ہو جائیں لیکن یہ یاد رکھیں کہ بعض دفعہ صداقت کے لئے دُکھ اُٹھانے پڑتے ہیں اس لئے ہمت ہے تو احمدی ہوں ورنہ پھر اللہ سے دعا کریں کہ اللہ توفیق بخشے