مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 29 of 142

مجالس عرفان — Page 29

۲۹ ہیں۔بجڑی بوٹیاں اور گھاس اگ جاتی ہیں اسی طرح اُمتوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے ہم رواج اُمتوں میں جڑ پکڑ جاتے ہیں۔اور بعد میں سمجھا جاتا ہے کہ گویا عبادتوں کا حصہ ہے۔جماعت احمدیہ کا مسلک یہ ہے کہ دین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر کامل ہوا تھا۔اس لئے حضور اکرم کے زمانے میں جو رسم و رواج عبادت کے تھے اُن پر ایک ذرے کا بھی اضافہ نہیں کرنا۔میں اور مثالیں دیتا ہوں مثلاً ختم قرآن ، مثلاً گیارہویں شریف، مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر کھڑے ہو جانا ان تمام باتوں میں سے ایک بھی آنحضور کے زمانے میں یا آپ کے خلفاء اور صحابہ کے زمانے میں ثابت نہیں۔راس خاتون نے قطع کلام کرتے ہوئے کہا۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جھک رہے ہیں بلکہ احترام اور آدمیت ہے حضور ایدہ الودود نے اپنے استدلال کو جاری رکھا۔احترام کے نام پر ایک نئی بدعت کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا احترام آج کے مسلمانوں کو زیادہ ہے؟ اُس زمانے کے مسلمانوں کو کم تھا ؟ یہ سوچیے۔سینے ! میں یہ کہتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔يكُمْ بِسُنّى وَسُنَةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ المهديين ابو داؤد د کتاب السته باب فی لزوم استه) تم پر میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت فرض ہے۔اب ایک بھی شال سازی سلام کی خلافت کی ساری تاریخ سے نہیں ملتی کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عدم موجودگی میں صحابہ یا خلفاء حضور کا نام لینے پر کھڑے