مجالس عرفان — Page 114
繩 ان میں سے بعض فرقے دوسروں کے درمیان یہ گو عا ضرور پڑھتے ہیں۔اور بعض نہیں پڑھتے۔لیکن جو نہیں پڑھتے وہ بھی وہ معنی نہیں کرتے جوئیں نے بیان کئے تھے کہ ہو نہیں سکتے۔اسی لئے اس بات پر سب متفق ہیں کہ پڑھی جائے یا نہ پڑھی جائے کہ اپنی دعا کا یہ مطلب بہر حال نہیں ہے کہ مجھے جسم سمیت اٹھالو۔وہ بلا کر بھی ثابت ہو جاتی ہے۔کہتے ہیں کہ ریڈیو پر پر بھی کہا جانگ ہے کہ دو بھولو کے درمیان کچھ نہ پڑھا جائے۔یہ معلوم ہوتا ہے اس فرقے کا قبضہ ہے۔ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر جن کے عقیدے میں داخل نہیں ہے لیکن یہ کبھی آپ کو بتا دیتا ہوں اپنے علماء سے بے شک پوچھ لیں۔احمدیوں کے سوا بھی کروڑوں مسلمان ہیں جو اس بات کے قائل ہیں اور پڑھتے ہیں اسی دعا کہ جوئیں نے پڑھی ہے۔اگلا سوالی احمد یا خیر امور کی اسب بہنوں کی یکساں دلچسپی کا تھا۔آپ لوگ سوئم ، چاہوانی ، ختم قرآن ، آیت کریمہ کے ختم پڑھنے :- باداموں کے عصر کو کیوں نہیں دے ختم حضور نے علمی استدلال سے جواب خوال مذہبی بگاڑ اور قومی تعمیل کی ماں واقعہ یہ ہے کہ ہم وہی ختم مانتے ہیں جو ختم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت ہو اور نہ اس کے سوا کوئی عقیدہ ہے۔اگر یہ قصور ہے تو ہم قصور وار ہیں۔