مجالس عرفان — Page 105
1۔0 عیسی کو بھیج جس کے بعد دمیج نے آنا تھا اور دیکھ رہے ہیں آسمان کی طرف کہ خدا سچ سچ آسمان سے اتارے گا۔وہ ابھی گیا ، اس کو پہچانا ہی نہیں۔مسیح بھی آگیا۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ظاہر ہو گئے۔ایک کہیں MISS ہو جائے تو باقی بھی ہوتی چلی جاتی ہیں۔یہ حال تو اپنا نہ کریں صحیفوں کو انبیاء کی زبان میں سمجھنے کی کوشش کریں۔خدا کا کلام کسی ظاہر پرست انسان کا کام نہیں ہے۔یہ معنی رکھتا ہے۔اس کے اندر خدا تعالے نے حکمتیں رکھی ہیں آسمان سے آنے سے مراد صرف اتنا ہوتا ہے کہ اللہ اس کو بھیجے گا۔کوئی اور کبھی نہیں آیا۔منشائے الہی کو نہ سمجھنے کی غلطی تو یہ خاتون کہتی ہیں کہ فرق کیا ہے ؟ ایسا تصویر بنا بیٹھی ہیں کہ اب قیامت تک انتظار کے سوا آپ کے مقدر میں کچھ نہیں۔پہلے کبھی لٹکتا ہوا وجود آسمان سے اترا ہے نہ اب اُترے گا۔نہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح تشریف لائے۔اس لئے آپ کے لئے دو ہی رستے ہیں یا تو تمثیل کو قبول کریں۔یا پھر ہمیشہ کیلئے رستے میں بیٹھ جائیں۔اور اس رستے پر تو سوائے فیض کے اس شعر کے اور کچھ لکھا ہوا نہیں ہے کہ گل کرو شمعیں بڑھا دو کے دمینا و ایاغ اپنے بے خواب کو اڑوں کو مقفل کر لچہ اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا فرضی قصے بنانے والے جو دین کی اصطلاحات کو نہیں سمجھتے اور کہانیوں میں بنے کو پسند کرتے ہیں ان کے لئے کبھی کوئی آسمان سے نہیں اترا نہ آئندہ اترے گا ہم