محضرنامہ — Page 31
سے اور محاورہ عرب سے ثابت کریں اور اس سلسلہ میں ایک سیر حاصل بحث آئندہ صفحات میں پیشی کی جارہی ہے مگر اس سے پہلے ہمیں رخصت دیجئے کہ ہم اُن لوگوں کا کچھ محاسبہ کریں جو ہم پر مہر نبوت کو توڑنے کا الزام لگاتے ہیں کہ خود ان کے عقیدہ کی حیثیت کیا ہے۔وہ بظاہر یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلقاً بلا شرط و بلا استثناء ہر معنی میں آخری نبی مانتے ہیں اور آپ کے بعد کسی قسم کے نبی کی بھی آمد کے قائل نہیں لیکن ساتھ ہی اگر پوچھا جائے تو یہ اقرار کرنے پر بھی مجبور ہو جاتے ہیں کہ سوائے حضرت عیسی علیہ اسلام کے جو ضرور ایک دن اس اُمت میں نازل ہوں گے یا جب آپ ان پر یہ جرح کریں کہ ابھی تو آپ نے یہ فرمایا تھا کہ آنحضور مطلقاً، بلا استثناء ان معنوں میں آخری نبی ہیں کہ آپ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی بھی نہیں آئے گا تو پھر اب آپ کو یہ استثناء قائم کرنے کا حق کیسے مل گیا تو اس کے جواب میں انتہائی بے معنی اور بے جان تا ویل پیش کرتے ہیں کہ وہ چونکہ پہلے نبی تھے اس لئے ان کا دوبارہ آنا ختم نبوت کی مہر کو توڑنے کا موجب نہیں۔جب ان سے پو چھا جائے کہ کیا وہ موسوی شریعت ساتھ لے کر آئیں گے تو جواب ملتا ہے نہیں بلکہ وہ بغیر شریعت کے آئیں گے۔پھر جب پوچھا جائے کہ اس صورت میں اوامر و نواہی کا کیا بنے گا ہر کس بات کی نصیحت فرمائیں گے اور کس سے روکیں گے تو ارشاد ہوتا ہے کہ پہلے وہ امت محمدیہ کے ممبر بنیں گے پھر اس شریعت کے تابع ہو کر نبوت کریں گے۔مزید سوالات کے جوابات ان کے اختیار میں نہیں کہ آیا سیم ناصری کو شریعت محمدیہ کی تعلیم علماء دیں گے یا براہ راست اللہ تعالیٰ سے وحی کے ذریعہ ان کو قرآن، حدیث اور سنت کا علم دیا جائے گا لیکن یہ امر تو اس جرح سے قطعا ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ خود بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلقاً آخری نبی نہیں مانتے بلکہ یہ استثناء رکھتے ہیں کہ ایسانہی جو پرانا ہو صاحب شریعیت نہ ہو امتی ہو اور لفظ لفظاً شریعت محمدیہ کا تابع ہو اور اسی کی تعلیم و تدریس کرے مہر نبوت کو توڑے بغیر بعد ظہور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی آسکتا ہے۔ہم اہل عقل و دانش اور اہل انصاف سے یہ سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ کیا ایسا اعتقاد رکھنے الوں کے لئے کسی بھی منطق یا انصاف کی رو سے یہ کہنا جائز ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی قسم کا بھی کوئی