محضرنامہ — Page 28
VA ہیں تو مخالف علماء کی طرف سے ہمیں یہ جواب دیا جاتا ہے کہ تم یہ کہنے کے با وجود کسی نہ کسی معنی میں نہی کے آنے کے امکان کو باقی سمجھتے ہو لہذا اس آیت کریمہ کے مفہوم کا انکار کرتے ہو۔پس عملاً آیت ہی کے منکر شمار ہوگئے۔مخالفین جماعت کا یہی وہ سب سے بڑا دھکہ ہے جس کے زور سے وہ جماعت احمدیہ کو اسلام کے دائرہ سے باہر دھکیل دینے کا عزم لے کر اُٹھے ہیں۔آئیے ذرا ٹھنڈے دل سے اس الزام کی حقیقت کا جائزہ لیں اور بڑے تحمل اور انصاف کے ساتھ یہ فیصلہ کریں کہ یہ الزام لگانے والے کس حد تک حق بجانب ہیں اور کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ خود ہی اپنے عائد کر دہ الزام کی زد میں آرہے ہوں اور بجاطور پر اس آیت کے منکر قرار دیے جانے کے سزا وار ٹھہریں۔جماعت احمدیہ کا موقف یہ ہے کہ ہم آیت خاتم النبیین کے تمام ایسے معانی پر ایمان لاتے ہیں جو قرآن حدیث اجماع سلف صالحین اور محاورہ عرب اور گفت عربی کے مطابق ہوں یہم اِس آیت کے لفظی معانی پر بھی ایمان لاتے ہیں اور حقیقی معنوں پر بھی ایمان لاتے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نبیوں میں سب سے کال ہیں نبیوں کی مہر اور نبیوں کی زینت ہیں۔نبوت کے سب کمالات آپ پر ختم ہوگئے اور پرفضیلت کی گنجی آپ کو تھمائی گئی۔آپ کی شریعت یعنی قرآن و سنت کا سکہ تا قیامت چلتا رہے گا اور دنیا کے ہر کونے پر محیط ہو گا اور ہر انسان اُسے مانے کا مکلف ہو گا اور کوئی نہیں جو ایک شعشہ بھی اس شریعت کا منسوخ کر سکے۔پس آپ آخرمی شریعت کے حامل رسول اور آخری واجب الاطاعت امام ہیں۔آپ سب نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں جسمانی لحاظ سے بھی اور روحانی لحاظ سے بھی۔اور آپ کی اس ضرب خاتمیت سے کوئی نبی کیسی پہلو سے بچ نہیں سکتا۔آپ کے ظہور کے بعد یہ ممکن نہیں کہ کوئی پہلا نبی جسمانی لحاظ سے آپ کی ہمعصری میں زندہ رہے اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں عالم گزران سے کوچ فرما جائیں کہ کوئی دوسرا نبی جسمانی لحاظ سے زندہ سلامت موجود ہو اور نعوذ باللہ آپ کو جسمانی لحاظ سے ختم ہوتا ہوا دیکھنے کے بعد وفات پائے۔حقیقی معنوں میں بھی آپ سب نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ کسی پہلے نبی کا فیض