محضرنامہ

by Other Authors

Page 21 of 195

محضرنامہ — Page 21

ضمیمہ میں درج شدہ فتاوی کے مطالعہ سے ظاہر ہو گا ، عملاً مسلمانوں کے ہر فرقہ میں کچھ نہ کچھ اعتقادات ایسے پائے جاتے ہیں جن کے متعلق اکثر فرقوں کا یہ اتفاق ہے کہ ان کا حامل دائرہ اسلام سے خارج ہے اور یہ صورت حال آسمانی حکم و عدل کا تقاضہ کرتی ہے۔اگر آج بعض اختلافات کی بناء پر جماعت احمدیہ کے خلاف دیگر تمام فرقوں کا اتفاق ممکن ہے توکل شیع کے خلاف ان کے بعض خصوصی عقائد کے بارے میں بھی ایسا ہونا ممکن ہے۔اور اہل قرآن الموسوم چکڑالوی یا پرویزی کے متعلق بھی ایسا ہو سکتا ہے اور اہل حدیث وہابی یا دیوبندیوں کے بعض عقائد کے متعلق بھی دیگر فرقوں کے علماء کا عملاً اتفاق ہے۔پس سوادِ اعظم کا لفظ ایک مبالغہ آمیز تصور ہے۔کیسی ایک فرقہ کو خاص طور پر بد نظر رکھا جائے تو اس کے مقابل پر دیگر تمام فرقے سوا و اعظم کی حیثیت اختیار کر جائیں گے اور اس طرح باری باری ہر ایک فرقہ کے خلاف بقیہ سواد اعظم کا فتومی گفر ثابت ہوتا چلا جائے گا۔ہمارے نزدیک یہ فتاوی ظاہر پر مبنی ہیں اور فی ذاتہا ان کو جنت کا پروانہ یا جہنم کا وارنٹ قرار نہیں دیا جا سکتا۔جہاں تک حقیقت اسلام کا تعلق ہے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے الفاظ میں تحقیقی مسلمان کی تعریف درج کرتے ہیں :- " اصطلاحی معنے اسلام کے وہ ہیں جو اس آیت کریمہ میں اُس کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ کہ بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْتُ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ یعنی مسلمان وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے تمام وجود کو سونپ دیو سے یعنی اپنے وجود کو اللہ تعالیٰ کے لئے اور اس کے ارادوں کی پیروی کے لئے اور اس کی خوشنودی کے حاصل کرنے کے لئے وقف کر دیوے اور پھر نیک کاموں پر خدا تعالیٰ کے لئے قائم ہو جائے اور اپنے وجود کی تمام عملی طاقتیں اس کی راہ میں لگا دیوے مطلب یہ ہے کہ اعتقادی اور عملی طور پر محض خدا تعالیٰ کا ہو جاوے۔