محضرنامہ — Page 20
میں مختلف علماء نے اپنی من گھڑت تعریفوں کی رُو سے گھر کے جو فتاوی صادر فرمائے ہیں ان سے ایسی بھیانک صورت حال پیدا ہوئی ہے کہ کسی ایک صدی کے بزرگان دین ، علمائے کرام ،صوفیاء اور اولیاء الشعر کا اسلام بھی ان تعریفوں کی رُو سے بچ نہیں سکا اور کوئی ایک فرقہ بھی ایسا پیش نہیں کیا جا سکتا جس کا شفر بعض دیگر فرقوں کے نزدیک مسلمہ نہ ہو۔اس ضمن میں ضمیمہ نمبرہ لف لہذا کیا جاتا ہے۔فتاوی کفر کی حیثیت یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان فتاوای کفر کی کیا حیثیت ہے اور کیا کوئی عالم دین انفرادی حیثیت سے یا اپنے فرقہ کی نمائندگی میں کسی دوسرے فرد یا فرقہ پر گفر کا فتویٰ دینے کا مجاز ہے یا نہیں اور ایسے فتاوی سے امت مسلمہ کی اجتماعی حیثیت پر کیا اثر پڑے گا ؟ جماعت احمدیہ کے نزدیک ایسے فتاوی کی حیثیت اس سے بڑھ کر کچھ نہیں کہ بعض علماء کے نزدیک بعض عقائد اس حد تک اسلام کے منافی ہیں کہ ان عقائد کا حامل عند اللہ کا فرقرار پاتا ہے اور قیامت کے روز اس کا حشر نشر مسلمانوں کے درمیان نہیں ہو گا۔اس لحاظ سے ان فتاوای کو اس دنیا میں محض ایک انتباہ کی حیثیت حاصل ہے اور جہاں تک دنیا کے معاملات کا تعلق ہے کسی شخص یا فرقے کو امت مسلمہ کے وسیع تر دائرہ سے خارج کرنے کا اہل یا مجاز قرار نہیں دیا جا سکتا یہ معاملہ خدا اور بندے کے درمیان ہے اور اس کا فیصلہ قیامت کے روز جزا اسٹرا کے دن ہی ہو سکتا ہے دُنیا کے معاملات میں ان فتاوی کا اطلاق امت مسلمہ کی وحدت کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور کسی فرقے کے علماء کے فتویٰ کے پیش نظر کسی دوسرے فرقہ یا فرد کو اسلام سے خارج قرار نہیں دیا جا سکتا۔یہ موقف کہ ایک فرقہ کے گھر کے بارہ میں اگر باقی تمام فرقوں کا اتفاق ہو جائے تو ایسی صورت میں دائرہ اسلام سے اس فرقہ کا اخراج جائز قرار دیا جا سکتا ہے اس بناء پر غلط اور نا معقول ہے کہ جیسا کہ