محضرنامہ

by Other Authors

Page 16 of 195

محضرنامہ — Page 16

IN پیش نظر رکھتے ہوئے اسلام میں جماعت احمدیہ کی حیثیت پر غور فرمانا مقصود ہے یا اسلام میں آیت خاتم النبیین کی کیسی تشریح کے قائل ہونے والے کسی فرد یا فرقہ کی حیثیت کا تعین کرنا مقصود ہے تو پھر ایسا پیمانہ تجویز کیا جائے جس میں ہر منافی اسلام عقیدہ رکھنے والے کے گھر کو ماپا جاسکتا ہو اور اس پیمانہ میں جماعت احمدیہ کیلئے بہر حال کوئی گنجائش نہیں۔مندرجہ بالا تمام سوالات کے بارے میں جماعت احمدیہ کے موقف کا خلاصہ یہ ہے کہ :- اقول :۔جماعت احمدیہ کے نزدیک مسلمان کی صرف وہی تعریف قابل قبول اور قابل عمل ہو سکتی ہے جو قرآن عظیم سے قطعی طور پر ثابت ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قطعی طور پر مروی ہو اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے زمانہ میں اسی پر عمل ثابت ہو۔اس اصل سے ہٹ کر مسلمان کی تعریف کرنے کی جو بھی کوشش کی جائے گی وہ رخنوں اور خرابیوں سے مبرا نہیں ہوگی بالخصوص بعد کے زمانوں میں (جب کہ اسلام بنتے بنتے بہتر فرقوں میں تقسیم ہو گیا) کی جانے والی تمام تعریفیں اس لئے بھی رد کرنے کے قابل ہیں کہ ان میں آپس میں تضاد پایا جاتا ہے اور بیک وقت اُن سب کو قبول کرنا ممکن نہیں۔اور کسی ایک کو اختیار کرنا اس لئے ممکن نہیں کہ اس طرح ایسا شخص دیگر تعریفوں کی رو سے غیرمسلم قرار دیا جائے گا اور اس دلدل سے نکلنا کسی صورت میں ممکن نہیں رہے گا جسٹس محمد منیر نے ۱۹۵۳ء کی انکوائری کے دوران جب مختلف علماء سے مسلمان کی تعریف پر روشنی ڈالنے کے لئے کہا تو افسوس ہے کہ کوئی دو عالم بھی کسی ایک تعریف پر تشفق نہ ہو سکے۔چنانچہ اس بارے میں جسٹس منیر صاحب افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- علماء کی طرف سے کی گئی مختلف تعریفوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا اس امر کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے کہ ہم کسی قسم کا تبصرہ کریں سوائے اس کے کہ کوئی بھی دو عالمان دین اس بنیادی مسئلہ پر متفق نہیں اگر ہم بھی ایک عالم دین کی طرح اپنی طرف سے ایک تعریف کریں اور وہ باقی تمام تعریفوں سے مختلف ہو تو ہم خود بخود دائرہ اسلام سے خارج