محضرنامہ

by Other Authors

Page 141 of 195

محضرنامہ — Page 141

السوم مفقود ہو چکی تھی۔۔۔مسلمانوں کے دیگر فرقوں میں کوئی جماعت تبلیغی اغراض کے لئے پیدا نہ ہو سکی۔ہاں ایک دل مسلمانوں کی غفلت سے مضطرب ہو کر اٹھا۔ایک مختصر سی جماعت اپنے گرد جمع کر کے اسلام کی نشر و اشاعت کے لئے بڑھا۔۔۔۔اپنی جماعت میں وہ اشاعتی تڑپ پیدا کر گیا جو نہ صرف مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے لئے بلکہ دنیا کی تمام اشاعتی جماعتوں کے لئے نمونہ فتنه ارتداد اور پولیٹیکل قلابازیاں طبع دوم صفحه ۲۴) ہے یا مولانا سید حبیب صاحب مدیر سیاست فرماتے ہیں :۔" اس وقت کہ آریہ اور سیمی مبلغ اسلام پر بے پناہ حملے کر رہے تھے اتنے دستے جو عالم دین بھی کہیں موجود تھے وہ ناموس شریعت حقہ کے تحفظ میں مصروف ہو گئے مگر کوئی زیادہ کامیاب نہ ہوا اس وقت مرز اعلام احمد صاحب میدان میں اترے اور انہوں نے مسیحی پادریوں اور آریہ اپدیشکوں کے مقابلہ میں اسلام کی طرف سے سینہ سپر ہونے کا تہیہ کر لیا ہیں مرزا صاحب کے ادعائے نبوت و غیرہ کی قلعی کھول چکا ہوں لیکن بقولیکہ عیب ہائے جملہ بگفتی ہنرش نیز بگو مجھے یہ کہنے میں ذرا باک نہیں کہ مرزا صاحب نے اس فرض کو نہایت خوبی و خوش اسلوبی سے ادا کیا اور مخالفین اسلام کے دانت کھٹے کر دیے۔اسلام کے متعلق ان کے بعض مضامین (تحریک قادیان صفحه ۲۰۹٬۲۰۸) لا جواب ہیں۔اسے حقہ مضمون کے آخر پر ہم یہ گزارش کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ اسلام کے اس عظیم مبل مبیل کے متعلق جس کی زندگی سرتا پا دین محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر جہاد میں وقف تھی اور عیسائیت کے خلاف جس کی شہرۂ آفاق مذہبی جنگوں نے عالم عیسائیت میں تہلکہ مچارکھا تھا یہاں وہی فتح نصیب جرنیل جس کے متبعین