محضرنامہ — Page 140
مرزا صاحب نے اپنی پر زور تقریروں اور شاندار تصانیف سے مخالفین اسلام کو ان کے کچر اعتراضات کے دندان شکن جواب دے کر ہمیشہ کے لئے ساکت کر دیا ہے اور کر دکھایا ہے کہ حق حقی ہی ہے اور واقعی مرزا صاحب نے حق حمایت اسلام کا کما حقہ ادا کر کے خدمت دین سلم میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔انصاف متقاضی ہے کہ ایسے اولوالعزم حامی اسلام اور معین الاسلمین فاضل اجل عالیم بے بدل کی ناگہانی اور بے وقت موت پر افسوس کیا جائے“ (بحوالہ بدر ۲۰ اگست شنا صفحه ۶ کالم ۲ ) کرزن گزٹ ویلی کرزن کنٹ“ دہلی کے ایڈیٹر مرزا حیرت دہلوی نے لکھا کہ جب " مرحوم کی وہ اعلیٰ خدمات جو اس نے آریوں اور عیسائیوں کے مقابلہ میں اسلام کی کی ہیں وہ واقعی بہت ہی تعریف کی مستحق ہیں۔اس نے مناظرہ کا بالکل رنگ ہی بدل دیا اور ایک جدید لڑکی پسر کی بنیاد ہندوستان میں قائم کر دی بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے بلکہ حق ہونے کے ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کسی بڑے سے بڑے آریہ اور بڑے سے بڑے پادری کو یہ مجال نہ تھی کہ وہ مرحوم کے مقابلہ میں زبان کھول سکتا۔اگرچہ مرحوم پنجابی تھا مگر اس کے قلم میں اس قدر قوت تھی کہ آج سارے پنجاب بلکہ بلندئی ہند میں بھی اس قوت کا کوئی لکھنے والا نہیں۔۔۔۔اس کا پُر زور لریچہ اپنی شان میں بالکل نرالا ہے اور واقعی اس کی بعض عبارتیں پڑھنے سے ایک وجد کی سی حالت طاری ہو جاتی ہے۔۔۔(بحوالہ سلسلہ احمدید ما ) چه وری فضل حق صا ف کر احرار آریہ سماج کے معرض وجود میں آنے سے پیشتر اسلام جسد بے جان تھاجس میں تبلیغی حتی