محضرنامہ — Page 135
۱۳۵ معجزہ بھی دُنیا میں آتا۔کیا تمہاری نظروں میں یہ بات عجیب اور انہونی ہے کہ خدا تعالیٰ نہایت درجہ کے مکروں کے مقابلہ پر جو ھر کی حقیقت تک پہنچ گئے ہیں ایک ایسی حقانی چمکار دکھا وسے جو معجزہ کا اثر رکھتی ہو یا (فتح اسلام صفحه ۶۶۵) چونکہ میں تثلیث کی خرابیوں کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ہوں اس لئے یہ دردناک نظارہ کہ ایسے لوگ دنیا میں چالیس کروڑ سے بھی کچھ زیادہ پائے جاتے ہیں جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا سمجھ رکھا ہے۔میرے دل پر اس قدر صدمہ پہنچاتا رہا ہے کہ میں گمان نہیں کرسکتا کہ مجھے پرمیری تمام زندگی میں اس سے بڑھ کر کوئی غم گذرا ہو۔بلکہ اگر ہم غم سے مرنا میرے لئے ممکن ہوتا تو یہ غم مجھے ہلاک کر دیتا کہ کیوں یہ لوگ خدائے واحد لاشریک کو چھوڑ کر ایک عاجز انسان کی پرستش کر رہے ہیں اور کیوں یہ لوگ اس نبی پر ایمان نہیں لاتے جو سچی ہدایت اور راہ راست لے کر دنیا میں آیا ہے۔ہر ایک وقت مجھے یہ اندیشہ رہا ہے کہ اس نظم کے صدمات سے میں ہلاک نہ ہو جاؤں۔۔۔۔۔اور میرا اس درد سے یہ حال ہے کہ اگر دوسرے لوگ بہشت چاہتے ہیں تو میرا بہشت یہی ہے کہ میں اپنی زندگی میں اس شرک سے انسانوں کو رہائی پاتے اور خدا کا جلال ظاہر ہوتے دیکھ گوں اور میری روح ہر وقت دعا کرتی ہے کہ اسے خدا ! اگر میں تیری طرف سے ہوں اور اگر تیرے فضل کا سایہ میرے ساتھ ہے تو مجھے یہ دن دکھلا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے سر سے یہ تہمت اُٹھا دی جائے کہ گویا نعوذ باللہ انہوں نے خدائی کا دعوی کیا۔ایک زمانہ گذر گیا کہ میرے پہنچ وقت کی یہی دعائیں ہیں کہ خدا ان لوگوں کو آنکھ بخشتے اور وہ اس کی وحدانیت پر ایمان لاویں اور اسکے رسول کو شناخت کرلیں اور تثلیث کے اعتقاد سے توبہ کریں تبلیغ رسالت جلد ہشتم صفحه ۷۲،۷۱)