محضرنامہ

by Other Authors

Page 4 of 195

محضرنامہ — Page 4

انسان کا بنیادی حق اور دستور ہم ان دونوں سوالات کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔ہمارے نزدیک رنگ و نسل اور جغرافیائی اور قومی تقسیمات سے قطع نظر ہر انسان کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منسوب ہو اور دُنیا میں کوئی انسان یا انجمن یا اسمبلی اسے اس بنیادی حق سے محروم نہیں کر سکتے۔اقوام متحدہ کے دستور العمل میں جہاں بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے وہاں ہر انسان کا یہ حتی بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہتے منسوب ہو۔(ضمیمہ علا) اسی طرح پاکستان کے دستور اساسی میں بھی دفعہ نمبر 1 کے تحت ہر پاکستانی کا یہ بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے۔اس لئے یہ امر اصولاً طے ہونا چاہیئے کہ کیا یہ میٹی پاکستان کے دستور اساسی کی رو سے زیر نظر قرار داد پر بحث کی مجاز بھی ہے یا نہیں ؟ اس ضمن میں امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا ناصر حمد صاحب کے ایک خطبہ کا انگریزی ترجمہ جس میں اس پہلو پر تفصیلی بحث کی گئی ہے ضمیمہ نمبر کے طور پر لطف ہذا کیا جاتا ہے) انسانی فطرت اور عقل بھی کسی سہیلی کو یہ اختیار نہیں دیتی کہ وہ کسی شخص یا فرقہ کو اس حق سے محروم کر سکے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منسوب ہو کیونکہ ایسی صورت میں دنیا کی ہر اسمبلی کو یہی حتی دینا پڑے گا اور اس اصول کو تسلیم کرنے کے ساتھ جو مختلف قبیح صورتیں پیدا ہوں گی اُن میں سے بعض نمونہ حسب ذیل ہیں :۔:- دنیا کی ہر قومی اسمبلی کو فی ذاتہ یہ حق بھی ہو گا کہ عیسائیوں کے بعض فرقوں کو غیر عیسائی یا ہندوؤں کے بعض فرقوں کو غیر ہندو قرار دے۔وغیرہ وغیرہ۔ب :۔ہر ملک میں موجود ہر مذہب کے ہر فرقے کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ قومی اسمبلی سے یہ مطالبہ کرے کہ وہ فلاں فلاں فرقے کوغیر عیسائی یا غیر ہند و یا غیرمسلم قرار دینے پر غور کرے۔وعلى هذا القیاس۔