حضرت سیّدہ محمودہ بیگم صاحبہ — Page 16
حضرت سیدہ محمودہ بیگم صاحبہ 16 کھانا تیار کر وایا اور جب وہ کھانا کھا کر جاچکے تو امی جان نے حضور سے کہا کہ میں تو ملاقات سے بھی انکار کر چکی تھی اور آپ اُن کو گھر کھانے پر لے آئے ؟ اس پر آپ نے فرمایا کہ " بے شک وہ ہمیں گالیاں دیتے ہیں لیکن اس وقت وہ ہمارے مہمان تھے اور مہمان کی خاطر فرض ہے۔“ آپ کو ہمیشہ سے مہمانوں کی خدمت کرنے اور خیال رکھنے کا بہت شوق تھا۔دارا مسیح میں جلسہ سالانہ کے موقعوں پر اکثر اتنے زیادہ مہمان ہوتے کہ تین تین سو اور چار چار سو تک لوگ ٹھہرتے تھے اُن دنوں ہر روز صبح سویرے ملازمین کے ساتھ آپ بھی اٹھ کر مہمانوں کو اُن کے کمروں میں گرما گرم چائے بھجوا تیں اور فرما تھیں کہ بے حد ٹھنڈ ہے یہ نہ ہو کہ کسی کو صبح چائے کی عادت ہو اور اس کو نہ ملنے سے تکلیف ہوتی ہو۔مہمان کی چھوٹی سے چھوٹی ضرورتوں کا بہت خیال رکھتی تھیں اور ہر وقت آپ کے گھر عورتوں کا ایک مجمع سالگا رہتا۔شائد ہی کوئی وقت ایسا ملتا کہ فارغ بیٹھ سکیں۔یہاں تک کہ جب ربوہ میں زندگی کے آخری سالوں میں کچھ بیار تھیں احمدی عورتیں صبح سے لے کر رات بارہ بارہ بجے تک محبت اور شوق سے ملنے آتیں تو آپ بھی سب سے بہت پیار اور محبت سے ملاقات فرماتیں۔اور باوجود کمزوری کے تھکان کا اظہار نہ کرتیں۔خاص طور پر حضرت اماں جان کی وفات کے بعد تو احمدی خواتین بہت