لُجَّةُ النّوْر — Page 130
لُجَّةُ النُّور ۱۳۰ اردو ترجمہ ، الشرع المتين، وما أعطى لهم اور شرع متین کے باغوں پر کوئی نظر بھی نہیں۔اور قدرة على أن يكتبوا عبارةً نہ انہیں قدرت دی گئی ہے کہ وہ روشن عبارت لکھ غراء، و لا قوة ليفترعوا سکیں۔اور نہ یہ قوت کہ اچھوتے رسالہ کی نقاب رسالة عذراء۔وما أجد أحدا كشائی کر سکیں۔میں ان میں سے ایک بھی ایسا منهم يعارضني في الإملاء نہیں پاتا جو تحریر میں میرا سامنا کر سکے اور فصیح و ويبارزني في تنقيح الإنشاء بليغ انشا پردازی میں میرا مقابلہ کر سکے۔اور میں وقد قلت لهم مرارا إننى أنا نے انہیں بارہا کہا ہے کہ میں اس زمانہ کے المُفْلِق الوحيد من كتاب هذه ادیبوں میں ماہر یگانہ ہوں، اور معارف قرآن الأوان، والمنفرد بعلم معارف کے علم میں یکتا ہوں، اور مجھے اوّلین اور آخرین القرآن، ولى غلبة على الأواخر سب پر غلبہ حاصل ہے۔خواہ (معروف فصیح و بلیغ (۱۳۲) والأوائل، ولو جاء ني سَحَبانُ خطيب) سَحُبَان وَائِل ہی مجھ سے مقابلہ کا وائل كالسائل * فإذا طلبت طلب گار ہو پس جب میں نے ان میں سے اس (۱۲۳) منهم مبارزا فى هذا الميدان، فما میدان میں مقابلہ کرنے والا طلب کیا تو کوئی بھی بارزني أحد واختفوا كالنسوان میرے مقابلہ کے لئے نہ آیا۔اور وہ عورتوں کی طرح ۱۳۴) وما كان لهم أن يُظهروا من چھپ گئے۔ان کی مجال نہ تھی کہ اپنی جوانمردی الحاشية - كلّما قلتُ من کمال ترجمہ۔جو کچھ میں نے بیان میں اپنی بلاغت کے کمال بلاغتـي فـي البيان۔فهو بعد کتاب کے بارے میں دعویٰ کیا ہے۔تو وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب الله القرآن۔وإنه معجزة جليل قرآن مجید کے بعد ہے۔یقیناً وہ تو جلیل الشان عظیم الشأن عظيم اللمعان قوی البرهان روشنی والا ، اور زبر دست برہان والا معجزہ ہے۔اور وہ وإنه فاق الكل بيان لطيف لطافت بیانی، اور عظمت معانی ، اور بار بار چمکنے والی بجلی ومعنى شريف، والتزام البروقین فی کی طرح ہر جگہ دور وشنیوں ( یعنی حسن بیان اور معارف جميع مواضعه كبرقٍ وَلِيفٍ۔شاجر نویسی) کے التزام میں ہر ایک پر فوقیت لے گیا ہے۔