لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 129 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 129

لجَّةُ النُّور ۱۲۹ اردو ترجمہ عليه على الزُّمَر فحاصل البيان جس پر حملہ کیا گیا ہو وہ گروہوں پر غالب آجاتا أنهم يُهرعون إلى الغرباء ہے۔حاصل کلام یہ کہ وہ کمزوروں کی طرف كالطوفان، ولا يهتال صِلُّهم طوفان کی طرح چڑھ دوڑتے ہیں اور ان کا إلا بمشاهدة الثعبان، ولا يُدارون سپولیا صرف اثر د ہے کو دیکھ کر ہی خوف زدہ ہوتا إلا برغيف او صفيف۔يعظمون ہے اور وہ صرف روٹی اور سیخ کباب کی خاطر ہی العِظام الرفات، ويكفرون بالذی مدارات سے پیش آتے ہیں۔وہ بوسیدہ ہڈیوں کی بعث وأحيا الأموات ألا يعلمون تعظيم کرتے ہیں اور اس مأمور کا انکار کرتے ہیں أن الوقت وقت نصر الدین و دفع جو مبعوث کیا گیا اور اس نے مردوں کو زندہ کیا۔کیا (۱۲۱) اللئام، وقد دنفت شمس وہ نہیں جانتے کہ یہ وقت دین کی نصرت اور الإسلام۔بل عادوا الحق لحب کمینوں کو دفع کرنے کا وقت ہے اور اسلام کا الأقارب واللذات، وآثروا سورج غروب ہونے کو ہے۔بلکہ انہوں نے هذه الدنيا وما انعقدت من اقارب کی محبت اور لذات کی خاطر حق سے دشمنی المودات۔يبغون عرَضَ هذه کی۔انہوں نے اس دنیا اور اپنے تعلقات مورت الدنيا وخطارتها۔ويحبون أن كو ترجیح دی۔وہ اس دنیا اور اس کا بلند مرتبہ چاہتے ينالوا خُشارتها فالأسف كل ہیں۔وہ پسند کرتے ہیں کہ اس (دنیا) کے الأسف أنهم بقوا بعد موت دسترخوان پر بچا کھچا کھانا حاصل کر لیں۔پس الأكابر كالجلف، ولا خَلَفَ بعد افسوس صد افسوس! کہ اکابرین کی موت کے بعد السلف۔يدعون أنهم فاقوا الكل وہ سر بُریدہ کی طرح باقی رہ گئے ہیں۔اور اسلاف في الفقه والحديث والأدب کے بعد کوئی جانشین نہیں ہوا۔وہ دعوی کرتے ہیں ونسلوا من كل أنواع الحَدَب کہ وہ فقہ، حدیث اور ادب میں سب پر فوقیت لے وليس لهم خبر من حقائق گئے ہیں اور ہر قسم کی بلندی سے دوڑے آر ہے الدين، ولا نظر فی حدائق ہیں۔جبکہ دین کے حقائق کی انہیں کچھ خبر ہی نہیں۔