لُجَّةُ النّوْر — Page 117
لجة النُّور ۱۱۷ اردو ترجمہ الضعفاء جلتُ ، و نسى المودة بڑھ گئی ہیں مشرق و مغرب میں رہنے والے ہر شخص و صلة الرحم كلُّ مَن كان في نے دوستی اور صلہ رحمی کو فراموش کر دیا ہے۔اور رشتہ المشارق والمغارب، وصارت دار بچھوؤں کی طرح ہو گئے ہیں۔اسی لئے وہ شخص ۱۱۰ الأقارب كالعقارب، ولأجل جسے بھوک ہنگائے پھرتی ہے وہ اپنا گھر بار چھوڑ دیتا ذالك يترك من ساقه السَغَبُ ہے اور چدھر افلاس اُسے لے جائے اُدھر ہی چلا جاتا الأهل والدار، ويذهب این ہے۔اور افلاس اسے) جیسے گھمائے ویسے ہی گردش يُذهبه الفقر ويدور كيف أدار کرتا ہے اور پارہ پارہ جگر اور بہتے ہوئے آنسوؤں کے و يفصل عن القُربى بكبد ساتھ اپنے پیاروں سے جدا ہو جاتا ہے۔یہاں تک مرضوضة۔ودموع مفضوضة کہ یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ زندہ ہے، تا کہ اس حتى لا يُعرَف أَحَى فيُتَوقَّعَ ، ام کے (لوٹنے کا انتظار کیا جائے ، یاوہ کسی خالی قبر کے أُودِعَ اللحدَ البَلْقَعَ، ويصرخ في سپرد کر دیا گیا ہے۔حالانکہ وہ پردیس میں یہ کہتے الغربة قائلا أين أنت یا زوجی یا ہوئے چلا رہا ہے کہ کہاں ہواے میری بیوی ! اور ولدى۔وإنّي أهلكنى الهَجُر اے میرے بیٹے ! مجھے (تمہاری ) جدائی نے ولكن كيف أصل إليكم بصفر بلاک کر دیا ہے لیکن میں خالی ہاتھ کیسے تمہارے يدى۔ويقول يَا أَسَفى على وطنى پاس آؤں۔اور کہتا ہے ہائے میرا وطن ! اور اس کا ويضجر قلبه وهو يُخرِد، ولا دل تنگ ہو رہا ہوتا ہے۔اور (شرم سے ) بولتا ہی يكون له أحد أن يرقش حکایتہ نہیں۔اور اس کا کوئی بھی ایسا نہیں جو کہ اس کی على ما يسرد، ثم يسعى بخبره بیان کرده حکایت لکھے پھر تیز رفتار گھوڑے کی طرح إلى وطنه كما يسعى الأجرد اُس کی خبر اُس کے وطن کی طرف لے دوڑے۔ولا يستبطنه أحد عن مرتاه ولا اور اُس کا پوشیدہ حالِ دل کوئی نہیں پوچھتا۔اور يُعينه في استضمام زوجه وفتاه ، کوئی اُس کو بیوی بچوں سے ملانے میں اُس کی مدد ولا يعطى له نصاب من المال نہیں کرتا اور نہ کوئی اُسے بقدر ضرورت مال ملتا ہے 11