لباس — Page 69
71 میاں بیوی کے حقوق و فرائض سے کیا ہوگا؟ اپنے اپنے گھروں میں اپنی اپنی جگہ تمام خوش اور مطمئن ہیں۔یہ کیوں ؟ اس لئے کہ حضور نے ہر بیوی کو اس کے حقوق دیئے کہ کیا کوئی دے گا۔ہر بیوی کا خیال اس حد تک رکھا کہ ہر بیوی اپنے عزیزوں (میکے والوں) تک کو بھول کر حضور ہی کی ذات میں کھو کر رہ گئی۔بیویوں کی خوشی میں ، بیویوں کے غم اور دکھ درد میں ، بیویوں کی بیماری اور پریشانی میں ، باوجود غیر معمولی دینی مصروفیات اور سلسلہ کی ذمہ داریوں کے آپ ہر وقت ہر موقع پر شریک ہوئے۔اور ان کی اس قدر خوبصورت طریق سے دلداریاں کیں کہ اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ہم لوگوں کی طبیعت کی خرابی پر خواہ معمولی سر درد ہی کیوں نہ ہو، جب پتہ چلتا تو دوائیاں خود لے کر اپنے ہاتھ سے کھلاتے۔غذا تک اپنے ہاتھ سے دیتے۔خود بار بار طبیعت دیکھتے۔پھر ڈاکٹر کو بلا کر ہدایات دیتے۔خاص توجہ کے لئے تلقین کرتے۔خواہ شدت کی گرمی ہوتی ، خواہ کڑاکے کا جاڑا ، آپ بذات خود بار بار آتے۔کبھی دوائی کی تلقین کبھی غذا اور پرہیز کی اور پھر اسی پر بس نہیں۔اگر کھانے کا وقت ہے یا دوائی کا وقت تو اپنے ہاتھ سے غذا یا دوائی دے کر پھر واپس اپنے کام میں لگ جاتے۔اخراجات دینے کے لحاظ سے بھی آپ نے ایسا انصاف قائم رکھا کہ اس میں کسی کی رعایت نہ رکھی سب کے ساتھ ایک سا برتاؤ اور ایک سا سلوک کیا۔بارہا ایسا ہوا کہ مہمان اچانک آگئے اور آپ نے اس خیال سے کہ مہمان کو تکلیف نہ ہو، اگر ہم لوگ مہمان کے لئے کوئی مشروبات تیار کر رہی ہیں یا کھانے کا وقت ہے اس کا اہتمام کر رہی ہیں تو آپ فورا خندہ پیشانی سے آگے بڑھتے ہیں اور ہمارا ہاتھ بٹانا شروع کر دیتے ہیں۔یا گرمیوں کے دنوں میں بارش یا آندھی اچانک آجاتی اور ہم لوگ جلدی جلدی بستر چار پائیاں اُٹھاتے تو آپ آگے بڑھ کر خود ہی کام ہمارے ساتھ کرنے لگ جاتے اس حد تک کہ ہمیں اصرار کرنا پڑتا کہ آپ یہ بوجھ