لباس — Page 65
67 میاں بیوی کے حقوق و فرائض بچیاں اکثر کہا کرتیں کہ ابا ہمارے بہترین دوست ہیں۔کھیل کود اور ہنسی مذاق تو روز کا معمول تھا۔محترمہ صاحبزادی شوکت جہاں بیگم صاحبہ بیان کرتی ہیں : اگر ہم کبھی ابا جان کو ہنسی مذاق میں چھیڑ تیں تو بڑے خوش ہوتے۔ایک دفعہ یوں ہوا کہ میری بہن فائزہ نے سوائے ایک ٹافی کے ، ڈبے کی ساری ٹافیاں کھالیں اور ان کی جگہ بالکل انہیں کی طرح کنکر لپیٹ کر انہیں اس صحیح سلامت اکلوتی ٹافی کے ہمراہ ڈبے میں رکھ کر ڈبہ ابا جان کی میز پر سجایا۔اور لگے ہاتھوں بڑا سا سوالیہ نشان بھی ڈبے پر لگا دیا۔اور خود بڑی بے تابی سے انتظار کرنے لگیں کہ دیکھئے اب ابا جان کیا کرتے ہیں۔تھوڑی دیر بعد کیا دیکھتی ہیں کہ ڈبہ اپنی اصل جگہ پر واپس رکھ دیا گیا ہے۔لیکن اب کی بار اس کے ساتھ ایک پرچہ بھی منسلک تھا جس پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے میں نے اپنے حصہ کی ایک ٹافی کھالی ہے۔باقی ٹافیاں آپ کھالیں۔غور سے دیکھا تو وہ اکلوتی ٹافی غائب تھی۔“ ایک مرد خدا صفحہ 212-213) آپ با وجود دینی مصروفیات کے گھر اور اہل خانہ کے لئے ضرور وقت نکالتے۔اُن کے ساتھ بیٹھ کر راحت محسوس کرتے۔آپ خود فرماتے ہیں : بیوی بچوں کے ساتھ بیٹھ کر میں دلی راحت اور اطمینان محسوس کرتا ہوں۔روز مرہ کی عام سے معمول کی باتیں ہوتی ہیں۔خاندان اور رشتہ داروں کی خیریت اور ان کی تازہ ترین دلچسپیوں اور معمولات کا ذکر ہوتا ہے۔مختلف موضوعات پر ہلکے پھلکے رنگ میں تبصرہ ہوتا ہے۔“ (ایک مرد خدا صفحہ 223)