لباس — Page 62
64 میاں بیوی کے حقوق و فرائض ناشکری کے نتیجے میں کبھی بدخلقی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ بڑے پیار اور محبت سے بات کو سمجھایا کرتے تھے۔پس آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونے کو دیکھیں اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو میں یقین دلاتا ہوں کہ اس سے آپ کو بہت تکلیف پہنچنے والی ہے۔بعض جگہوں پر خاوند، ساس اور نندوں کے ظلموں کا نشانہ بننے والی بچیوں کی عجیب کیفیت ہے۔خوشی کے موقع پر بھی طعنے دیئے جاتے ہیں۔ایک بچی کا خط آیا دُعا کریں اللہ تعالیٰ ایک لڑکا دے دے۔چار بچیاں ہیں۔ہر پیدائش پر طعنے کیا جوٹ جیسی ہو۔کیا نحوستیں لے کر آئی ہو۔ہماری نسل برباد کر دی۔ساسیں اس نحوست کا سبق اپنے بچوں کو دے رہی ہوتی ہیں کیا وہ خود عورت نہیں۔کیا وہ اس نحوست کا نشان نہیں۔ایسی ذلیل اور کمینی حرکتیں اگر احمدی معاشرے میں پائی جائیں تو ہم دنیا کو تعلیم دینے کے اہل نہیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سلوک کیا، تمام نبیوں کی تعلیمات اور ساری دنیا کے افراد میں سے کسی نے ایسا سلوک عورت سے نہیں کیا۔یہ ہمارے لئے نمونہ ہے اس سلوک کو اپنے گھروں میں جاری کریں پھر حقیقی عید ہوگی۔ورنہ بڑے درد میں مبتلا ہوں گے۔میں نے ساری عمر، یہ کوشش کی کہ عمر بھر مجھ سے ظلم سرزد نہ ہو۔بی بی ( حضرت آصفہ بیگم صاحبہ ) کو کوئی ناجائز تکلیف نہ پہنچے۔لیکن اپنی بیوی کی بیماری میں زندگی کے سارے واقعات آنکھوں کے سامنے آتے رہے جسے میں سمجھتا ہوں کہ دانستہ یا نادانستہ، جائز اور ناجائز طور پر میں ان کے لئے دُکھ کا موجب بنا۔بار بار استغفار کرتا رہا۔میرے لئے مشکل یہ تھی کہ میں ان سے معافی نہیں مانگ سکتا تھا کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ وہ اس سے سمجھیں گی کہ میرا وقت قریب آگیا ہے۔خدا سے معافی مانگتا رہا کہ اگر کوئی غلطی ہوگئی ہو تو مجھے معاف کر دے اور ان کی روح کو تحریک فرما کہ یہ مجھے معاف