لباس — Page 61
63 میاں بیوی کے حقوق و فرائض حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اہلیہ حضرت بی بی آصفہ بیگم صاحبہ کی وفات کے معابعد آنے والی عید الفطر 1992ء کے موقع پر خطبہ میں احباب جماعت کو ان الفاظ میں نصیحت فرمائی تھی۔”اپنی بیویوں سے حسن سلوک کیا کرو۔ایسی بیویاں جو خاوند کے ظلموں تلے زندگی بسر کرتی ہیں وہ بے بس اور بے اختیار ہوتی ہیں۔خاوند بد خلق ہو تو چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھنا تو در کنار، بد زبانی سے کام لے، طعنے دے کر غریب کے ماں باپ کو بھی تکلیف دے اور دل آزار باتیں کر کے ان کے دلوں کو چھلنی کرے، ایسا خاوند اپنی بیوی کے لئے مسلسل عذاب کا موجب بنا رہتا ہے۔اس عید کے وقت اگر کوئی سچا احمدی ہے اور میری بات سن رہا ہے ، اس کے دل میں میری اس بات کا اثر ہو سکتا ہے تو میں اسے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنی زندگی میں ایک انقلاب برپا کرے پھر اسے سچی عید نصیب ہوگی۔ایک مظلوم لڑکی نازوں میں پلی کسی کی بیٹی آپ کے گھر جا کر آپ کے رحم و کرم پر ہوتی ہے اُسے جب ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو یہ بہت بڑا گناہ ہے کوئی معمولی گناہ نہیں۔ایسا شخص اگر باز نہیں آئے گا تو اُسے عذاب الیم کی خبر دیتا ہوں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ مرنے کے بعد اسکی زندگی درد ناک عذاب میں مبتلا ہوگی۔ایسے ظلموں میں صرف خاوند شریک نہیں ہوا کرتے بلکہ بہت حد تک ساسوں کا قصور ہوتا ہے۔احمدی مجھے لکھتے ہیں کہ آپ مردوں کو ڈانٹتے اور نصیحتیں کرتے ہیں عورتیں بھی تو زیادتیاں کرتی ہیں۔عورتیں کرتی ہوں گی اور کرتی ہیں جیسا کہ رسول خدا نے فرمایا کہ ناشکریاں بھی کرتی ہیں۔لیکن ان ناشکریوں کے نتیجے میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا سلوک تھا آپ فرماتے ہیں خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لاهلي “ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی