لباس — Page 50
52 میاں بیوی کے حقوق و فرائض سیدنا حضرت مسیح موعود نے یہ الہام درج کرنے کے بعد تحریر فرمایا : اخویم مولوی عبد الکریم صاحب نے اپنی بیوی سے کسی قدر سختی کا برتاؤ کیا تھا۔اس پر حکم ہوا کہ اس قدر سخت گوئی نہیں چاہئے۔“ ( اربعین نمبر 3 روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 429) اور حاشیہ میں ہی جماعت کو مزید نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ” اس الہام میں تمام جماعت کے لئے تعلیم ہے کہ اپنی بیویوں سے رفق اور نرمی کے ساتھ پیش آویں۔وہ ان کی کنیزیں نہیں ہیں۔در حقیقت نکاح مرد اور عورت کا باہم ایک معاہدہ ہے پس کوشش کرو کہ اپنے معاہدہ میں دغاباز نہ ٹھہر و۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ یعنی اپنی بیویوں کے ساتھ نیک سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو۔اور حدیث میں ہے خَيْرُكُمْ خَيْرُكُم لِأَهْلِه یعنی تم میں سے اچھا وہی ہے جو اپنی بیوی سے اچھا ہے۔سو روحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو۔ان کے لئے دعا کرتے رہو اور طلاق سے پر ہیز کرو کیونکہ نہایت بد، خدا کے نزدیک وہ شخص ہے جو طلاق دینے میں جلدی کرتا ہے جس کو خدا نے جوڑا ہے اس کو ایک گندے برتن کی طرح جلدی مت توڑو۔“ ( تذکرہ صفحہ 409 واربعین نمبر 3 روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 428) حضرت سید فصیلت علی شاہ صاحب کو ایک دردمند خط : حضرت سید خصیلت علی شاہ صاحب کے نام ایک مکتوب میں حضرت مسیح موعود نے تحریر فرمایا۔باعث تکلیف دہی ہے کہ میں نے بعض آپ کے سچے دوستوں کی زبانی جو درحقیقت آپ سے تعلق اخلاص اور محبت اور حسن ظن رکھتے ہیں۔سنا ہے کہ امور معاشرت میں جو بیویوں اور اہل